سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 900

سیر روحانی — Page 61

۶۱ روشنی ڈالتے ہیں جو اُن کو اچھی شکل میں پیش نہیں کرتے اور میں نے دیکھا کہ ان کے لباس جو لوگ بتاتے ہیں وہ نہایت پھٹے پرانے اور میل کچیل سے بھرے ہوئے تھے مگر جب قرآن کریم کے آثارِ قدیمہ کے کمروں کو میں نے دیکھا تو اُن میں ہر نبی کا لباس نہایت صاف ستھرا اور پاکیزہ دکھائی دیا۔پھر میں نے اپنی نظر او پر اُٹھائی تو اس کمرہ کے دروازہ پر ایک بورڈ لگا ہوا تھا اور اس پر لکھا تھا۔اُولئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللهُ فَبِهُد هُمُ اقْتَدِهُ یہ لوگ بڑے صاف ستھرے اور پاکیزہ تھے۔انہوں نے کوئی بات ہمارے حکم کے خلاف نہیں کی۔پس جس بات کے متعلق بھی تمہیں یقینی طور پر پتہ لگ جائے کہ وہ ان انبیاء میں سے کسی نے کی ہے اُس پر بغیر کسی خدشہ کے فوراً عمل کر لیا کرو کیونکہ وہ ضرور اچھی ہوگی۔(۲) جنتر منتر دوسری سیر میں نے جنتر منتر کی کی۔جنتر منتر ایک رصد گاہ کا نام ہے جہاں اجرامِ فلکی کے نقشے بنے ہوئے ہیں۔اسی طرح بعض بلند جگہیں بنی ہوئی ہیں جہاں سے ستاروں اور اُن کی گردشوں کا اچھی طرح معائنہ کیا جا سکتا ہے۔یہ رصد گا ہیں تین کام دیتی تھیں۔اول علم ہیئت اور حساب اوقات کی صحیح معلومات حاصل کرنا۔دوم اپنے خیال کے مطابق علم غیب دریافت کرنا۔سوم ستاروں کے بداثرات سے بچنے کی کوشش کرنا۔یہ نہایت خوشنما جگہ ہے اور لوگ اسے ایک پُرانے زمانہ کی یاد گار سمجھ کر دیکھنے کے لئے آتے رہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ محمد شاہ بادشاہ کے وقت میں مہا راجہ جے پور نے اسے تعمیر کرایا تھا۔میں نے کہا اس چھوٹے سے نقشہ کی تو لوگ قدر کرتے ہیں اور اس کے بنانے والے کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن کبھی بھی وہ اُس حقیقی جنتر منتر کی طرف نگاہ نہیں اُٹھاتے جس کا یہ نقشہ ہے اور نہ اس کے بنانے والے کی صنعت کی عظمت کا اقرار کرتے ہیں۔مٹی اور پتھر کی اگر کوئی دوا مینٹیں لگا دے تو کہہ اُٹھتے ہیں واہ واہ ! اُس نے کسقدر عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا تو