سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 799 of 900

سیر روحانی — Page 799

۷۹۹ قرآن کریم میں عِلْمُ الْإِنْسَان کا ذکر عِلمُ الإِنسان بھی ایک نہایت ضروری علم ہے جس کو انگریزی میں ANTHROPOLOGY کہتے ہیں اور لوگوں نے اس علم پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔قرآن کریم نے بھی اس پر بحث کی ہے اور اس نے ابوالبشر کا نام آدم رکھا ہے۔یعنی وہ پہلا انسان تھا جس نے سطح زمین پر رہنا شروع کیا۔تاریخ بتاتی ہے کہ آدم سے پہلے جو لوگ تھے وہ غاروں میں چُھپ کر رہتے تھے تا کہ کہیں شیر اور بھیڑیے اُسے کھا نہ جائیں۔پھر جب تمدن نے ترقی کی اور حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کرنی شروع کر دی تو لوگ غاروں سے باہر نکل آئے اور انہوں نے سطح زمین پر رہنا شروع کر دیا۔اور سب سے پہلا انسان آدم تھا جس نے زمین کی سطح پر رہنا شروع کیا۔گویا پہلا کیومین (CAVEMAN) جو زمین پر رہنا شروع ہوا آدم تھا بلکہ قرآن کریم نے اس کا نام آدم رکھ کر ہی یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ CAVE یعنی غار کو چھوڑ کر باہر نکل آیا تھا اور اُس نے سطح زمین پر مل جُل کر رہنا شروع کر دیا تھا۔چنانچہ ادِيمُ الْأَرْضِ کے معنے عربی زبان میں سطح زمین کے ہوتے ہیں۔کے گویا آدم کے معنے ہوئے غاروں سے نکل کر سطح زمین پر رہنے والا شخص۔اسی طرح آدیم کے معنے اوّلیت کے بھی ہیں کے گویا آدم کے لفظ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ موجودہ نسل کا پہلا انسان آدم تھا۔اسی طرح آدم کے معنے ہوتے ہیں صَارَ لَهُمُ اُسْوَةٌ ^ وہ اُن کے لئے نمونہ ہو گیا۔یعنی آدم علیہ السلام لوگوں کے لئے ایک نمونہ تھے اور انہوں نے آپ کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا تھا۔عیسائیوں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ چونکہ حضرت آدم علیہ السلام نے گناہ کیا تھا اس لئے انسان کی فطرت میں گناہ کا مادہ پایا جاتا ہے لیکن یہ بات غلط ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے کوئی گناہ کیا تھا۔اُن سے صرف ایک اجتہادی لغزش ہوئی تھی اور پھر اس لغزش پر بھی انہوں نے تو بہ کی۔اگر عیسائیوں کا کلیہ صحیح تسلیم کر لیا جائے تو انسان کی فطرت میں تو بہ کا مادہ ہونا چاہئے تھا نہ کہ گناہ کا کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام لوگوں کے لئے نمونہ تھے اور وہ انہیں کے نقش قدم پر چلتے تھے۔گناہ تو حوا نے کیا تھا اور حوا نے ہی بائبل کی رُو سے حضرت آدم کو پھسلایا تھا۔پھر آدم سے سلسلہ گناہ کس طرح چل پڑا جبکہ آدم نے ایک اجتہادی غلطی پر تو بہ بھی کی تھی۔اِسی طرح آدَمَ کے ایک معنے اَلَّفَ وَوَفَّقَ کے ہیں۔۹ے یعنی اُس نے فساد دُور کیا اور باہم موافقت پیدا کی۔ان معنوں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام