سیر روحانی — Page 715
۷۱۵ بُرے پھل والے درخت لگا دیئے جو بد مزہ تھے، کڑوے تھے اور کھٹے تھے۔خمط کے معنے ایسی چیز کے ہوتے ہیں جو کھٹی اور کڑوی ہو۔یعنی وہ ایسے پھل دینے لگے جو کڑوے بھی تھے اور کھٹے بھی۔یہاں بھی درحقیقت روحانی پھل مراد ہیں کیونکہ عاد اور ثمود کی تباہی کے بعد جن کے پھل سخت کڑوے اور بدمزہ ہو چکے تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام آئے تھے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اِن لوگوں کی جنتوں کو تباہ کر دیا اور اس کی جگہ نہایت بُرے پھل والے دو باغ ان کو دیئے یعنی اچھے پھل والے باغ ابرا ہیم کو مل گئے اور بُرے پھل والے باغ عاد کو مل گئے۔سورہ کہف میں اللہ تعالی موسوی قوم کے متعلق بھی موسوی قوم کے دو باغات کا ذکر فرماتا ہے۔وَاضْرِبُ لَهُم مَّثَلاً رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لَا حَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنَهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرُعاً۔كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ أَتَتْ أكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِمُ مِّنْهُ شَيْئًا وَّ فَجَّرُنَا خِلَا لَهُمَا نَهَرًا یعنی تو اُنکے سامنے اُن دو شخصوں کی حالت بیان کر جن میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیئے تھے اور انہیں ہم نے کھجور کے درختوں سے ہر طرف سے گھیر رکھا تھا اور ہم نے ان دونوں کے درمیان کچھ کھیتی بھی پیدا کی تھی۔ان دونوں باغوں نے اپنا اپنا پھل خوب دیا اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کیا اور اُن کے درمیان ہم نے ایک نہر بھی جاری کی ہوئی تھی۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دو جنتیں عطا فرما ئیں اور ان دونوں جنتوں میں فاصلہ رکھا اور چونکہ یہ باغ کنارہ کی طرف جاتے جاتے کمزور پڑ گئے۔اس لئے ایک باغ اور دوسرے باغ کے درمیان کھیتیاں بنا دی گئیں۔چنانچہ موسوی باغ اور عیسوی باغ کے درمیان داؤد کے اتباع کا زمانہ آیا۔اسی کی طرف اس میں اشارہ ہے کہ موسٹی کا باغ چلے گا اور جاتے جاتے داوڑ کے زمانہ کے بعد اس میں تنزل شروع ہو جائے گا اور وہ کھیتیاں بن جائے گا۔چنانچہ فرماتا ہے وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرُعًا۔ہم نے ان دونوں باغوں کے درمیان کچھ کھیتی بھی پیدا کی تھی۔یعنی ایک طرف عیسوی باغ تھا اور ایک طرف موسوی باغ اور ان کے درمیان ہم نے کھیتی پیدا کر دی۔یعنی داؤد کی نسل پر وہ زمانہ آیا جب کہ بخت نصر نے یہودیوں کو تباہ کر دیا۔اُن کے معبد گرا دیئے اور انہیں قید کر کے لے گیا۔پس اُن اتباع کا جو زمانہ تھا یا حزقی ایل اور دانی ایل کا زمانہ تھا وہ کھیتیوں کا زمانہ تھا یعنی اُنکی مثال ایک کھیتی کی سی تھی نہ