سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 710 of 900

سیر روحانی — Page 710

تھا، تم کو چاہئے تھا کہ میری بات نہ مانتے ہے اس حدیث سے معلوم ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو جو قرآن کریم میں قاعدہ کے طور پر بیان کی گئی تھی اپنے کسی علم کے ذریعہ سے نہیں جانتے تھے یہ محض الہامی علم تھا۔پس اس واقعہ سے ہر عقلمند خواہ کسی ملک کا رہنے والا ہو، کسی مذہب کا ماننے والا ہو سمجھ سکتا ہے کہ قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنایا ہوا انہیں تھا۔ورنہ وہ بات جو وہ جانتے نہیں تھے اس میں لکھتے کس طرح؟ قرآن کریم عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَة خدا كا اُتارا ہوا تھا اس لئے اُس میں علاوہ روحانی علوم کے مادی علوم بھی ایسے بیان کئے گئے جن کو محمد رسول اللہ تو بالکل نہیں جانتے تھے مگر دنیا بھی نہایت محدود رنگ میں اُن سے واقف تھی۔جیسے عربوں میں یہ علم تھا کہ کھجور میں نر و مادہ ہوتا ہے مگر باوجود اس کے گزشتہ تیرہ سو سال میں مسلمانوں نے ڈ نیوی علوم میں بڑی ترقی کی ہے اور باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں یہ آیت موجود تھی انہوں نے اس مسئلہ میں کوئی ترقی نہیں کی کیونکہ خدا تعالیٰ یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ تیرہ سو سال بعد سائنس نے جو دریافت کی ہے وہ قرآن کریم میں پہلے موجود تھی۔موجودہ سائنسدانوں کی تحقیق اب سائنس دان کہتے ہیں کہ صرف کھجور میں ہی نر و مادہ نہیں بلکہ اور درختوں میں بھی ہیں۔مثلاً پیتا میں بھی ہیں۔پپیتا کے درخت میں بھی ایک نر پیتا ہوتا ہے اور ایک مادہ پپیتا۔میرے سندھ کے باغ میں بہت سے پپیتے لگے ہوئے ہیں۔کیونکہ وہاں پہنتے بہت ہوتے ہیں اور ہم بھی لگواتے ہیں۔ایک دفعہ میں نے دیکھا تو درختوں پر پھل نہیں تھا۔میں نے کہا پھل کیوں نہیں؟ وہ کہنے لگے غلطی سے سب مادہ درخت لگ گئے ہیں نر کوئی نہیں لگا اس لئے ہوا نر درخت میں سے نطفہ لا کر مادہ پر نہیں گراتی اور اسوجہ سے پھل نہیں لگتا۔اب ہم نے درخت لگا ئیں گے تو پھر پھل لگے گا۔غرض آب سائنٹیفک تحقیق سے بھی ثابت ہو گیا ہے کہ پیپتا میں بھی نرومادہ ہے بلکہ بہت سی سبزیوں اور ترکاریوں میں بھی وہ نر و مادہ کے قائل ہو گئے ہیں بلکہ بعض سائنسدان تو تحقیق میں اتنے بڑھ گئے ہیں کہ وہ دھاتوں میں بھی نر و مادہ کے قائل ہو گئے ہیں۔ایک سائنسدان کی کتاب میں نے پڑھی ، اُس میں لکھا تھا کہ ٹین سے بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک ٹین کر ہوتا ہے ، اور ایک مادہ ہوتا ہے اور یہ بھی ایک دوسرے پر اثر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے اثر کو قبول کر کے ایک نئی شکل بدل لیتے ہیں۔مگر سائنسدان تو یہ کہتے ہیں کہ نباتات میں نر و مادہ ہوتا