سیر روحانی — Page 51
۵۱ 66 نہیں کر سکتا اور اگر کوئی قیاس دوڑائے گا بھی تو وہ کوئی پختہ اور یقینی بات نہیں ہوگی محض ایک ظن ہوتی گا یہی حال شجرہ آدم کا ہے جب خدا نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ شجرہ کیا تھا تو ہم کون ہیں جو اس شجرہ کو معلوم کر سکیں۔تم کسی چیز کا نام شجرہ رکھ لو، مختصر طور پر اتنا سمجھ لو کہ خدا نے یہ کہا تھا کہ اُس کے قریب نہ جانا مگر حضرت آدم علیہ السلام کو شیطان نے دھوکا دے دیا اور وہ اُس کے قریب چلے گئے جس پر انہیں بعد میں بہت کچھ تکلیف اٹھانی پڑی بہر حال بہتر یہی ہے کہ جس بات کو خدا نے چھپایا ہے اُس کی جستجو نہ کی جائے اور بلا وجہ یہ نہ کہا جائے کہ شجرہ سے فلاں چیز مراد ہے، لیکن اگر کسی کی اس جواب سے تسلی نہیں ہوتی تو پھر وہ یوں سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا تھا کہ دیکھنا شیطان کے پاس نہ جانا وہ تمہارا سخت دشمن ہے اگر اس کی باتوں میں آگئے تو وہ ضرور کسی وقت تمہیں دھوکا دے دیگا۔حضرت آدم علیہ السلام نے ایسا ہی کیا مگر شیطان نے جب دیکھا کہ یہ میرے داؤ میں نہیں آتے تو اُس نے کہا کہ صلح سے بڑھ کر اور کیا چیز ہوسکتی ہے۔بہتر یہی ہے کہ ہم اور تم آپس میں صلح کر لیں اور ان روز روز کے جھگڑوں کو نپٹا دیں جیسا کہ یورپ والے بھی آجکل بظاہر پیس پیس (PEACE PEACE) کا شور مچا رہے ہوتے ہیں اور اندر بڑے زور سے جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں۔اٹلی کی جب لڑکی سے لڑائی ہوئی تو اس لڑائی سے تین دن پہلے اٹلی کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ ترکوں سے ہماری اتنی صلح ہے اور اس قدر اس سے مضبوط اور اچھے تعلقات ہیں کہ پچھلی صدی میں اس کی کہیں نظیر نہیں مل سکتی ، مگر اس اعلان پر ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ اٹلی نے لڑکی پر حملہ کر دیا۔یہی حال باقی یوروپین اقوام کا ہے وہ شور مچاتے رہتے ہیں کہ صلح بڑی اچھی چیز ہے، امن سے بڑھ کر اور کوئی قیمتی شے نہیں، مگر اندر ہی اندر سامان جنگ تیار کر رہے ہوتے ہیں۔گویا وہ صلح صلح اور امن امن کے نعرے اس لئے نہیں لگاتے کہ انہیں صلح اور امن سے محبت ہوتی ہے بلکہ اس لئے نعرے لگاتے ہیں کہ انہوں نے ابھی پوری طرح جنگ کی تیاری نہیں کی ہوتی اور وہ کی چاہتے ہیں کہ صلح اور امن کا شور مچا کر دوسروں کو جس حد تک غافل رکھا جا سکے اُس حد تک غافل رکھا جائے اور پھر یکدم حملہ کر دیا جائے۔یہی حال حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ہوا۔خدا تعالیٰ نے آدم کو کہا دیکھنا شجرہ شیطانی کے قریب نہ جانا بلکہ ہمیشہ اس کے خلاف لڑائی جاری رکھنا کیونکہ شیطان کے ساتھ جب بھی صلح ہوگی اس میں مؤمنوں کی شکست اور شیطان کی فتح ہوگی اور کی اس صلح کے نتیجہ میں تمہارے لئے بہت زیادہ مشکلات بڑھ جائینگی۔حضرت آدم علیہ السلام نے اس