سیر روحانی — Page 50
بارے میں سب سے بہتر طریق تو یہ ہے کہ جس بات کو قرآن کریم نے چھپایا ہے اُس کو معلوم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی غلطی ہوئی مگر خدا نے نہ چاہا کہ اپنے ایک پیارے بندے کی غلطی دنیا پر ظاہر کرے اور اس نے اُس غلطی کو چھپا دیا۔اب جبکہ خدا نے خود اسے چھپا دیا ہے تو اور کون ہے جو اس راز کو معلوم کر سکے ، جسے خدا چھپائے اُسے کوئی ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔یہ بالکل ویسی ہی مثال ہے جیسے اللہ تعالیٰ سورہ تحریم میں فرماتا ہے۔وَإِذَاسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّأَتْ بِهِ وَ أَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّنَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّأَهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَأَكَ هَذَا قَالَ نَبَّا نِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ یعنی اُس وقت کو یا دکر و جب ہمارے نبی نے مخفی طور پر ایک بات اپنی ایک بیوی سے کہی جب اُس بیوی نے وہ بات کسی اور سے کہہ دی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ خبر دیدی کہ تمہاری بیوی نے وہ بات فلاں شخص سے کہہ دی ہے اس پر ہمارے نبی نے اپنی بیوی کو کچھ بات بتا دی اور کچھ نہ بتائی جب ہمارے نبی نے وہ بات اپنی بیوی سے کہی تو اُس نے کہا کہ آپ کو یہ بات کس نے کہہ دی؟ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ بات اُسی نے بتائی ہے جو زمین و آسمان کا خدا ہے اور جو دلوں کے بھیدوں سے واقف اور تمام باتوں کو جاننے والا ہے۔اب یہاں اس بات کا ذکر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے کہی تھی محض ضمیروں میں کیا گیا ہے اور صرف یہ کہا گیا ہے کہ ایک بات تھی جو ہمارے نبی نے اپنی ایک بیوی کو بتائی ، وہ بات اُس بیوی نے کسی اور کو بتا دی۔اس پر خدا نے الہام نازل کیا اور اپنے رسول کو بتایا کہ وہ بات جو تو نے اپنی بیوی سے کہی تھی وہ اُس نے کسی اور سے کہہ دی ہے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کا اپنی بیوی سے ذکر کر دیا۔بیوی کہنے لگی یہ بات آپ کو کس نے بتائی ؟ آپ نے فرمایا مجھے علیم اور خبیر خدا نے یہ بات بتائی ہے۔یہ ساری ضمیر میں ہیں جن میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے مگر بات کا کہیں ذکر نہیں لیکن ہمارے مفسرین ہیں کہ وہ اپنی تفسیر وں میں یہ بحث لے بیٹھے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیوی سے کیا بات کہی تھی۔پھر کوئی مفسر کوئی بات پیش کرتا ہے اور کوئی مفسر کوئی بات پیش کرتا ہے حالانکہ اس جھگڑے میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی ، جب خدا نے ایک بات کو چھپایا ہے اور یہ پسند نہیں کیا کہ اُسے ظاہر کرے تو کسی مفتر کا کیا حق ہے کہ وہ اس بات کو معلوم کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور اگر وہ کوئی بات بیان بھی کر دے تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ بات درست ہوگی ، یقیناً جس بات کو خدا چھپائے اُسے کوئی ظاہر