سیر روحانی — Page 684
۶۸۴ چاہئے اور دیکھتے رہنا چاہئے کہ نہر جاتی کدھر ہے کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ وہ نہر تمہیں کہیں کا کہیں پہنچا دے۔اسی طرح سمندروں کو دیکھو کہ سمندر تمہارے کام آنے والی چیز ہیں لیکن اُن پر بھی ایک قانون حاوی ہے اور خاص ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔اگر ان ہواؤں کو مہِ نظر نہ رکھو گے تو وہی سمند ر تمہارے لئے تباہی کا موجب ہو جائیں گے یا مثلاً اس کے اندر چٹانیں بھی ہیں اگر کو ان چٹانوں کو مد نظر نہ رکھو گے تو تمہارے جہاز تباہ ہو جائیں گے چنانچہ فرماتا ہے۔وَ مِنْ ايَتِهِ الْجَوَارِ فِى الْبَحْرِ كَا لَا غَلَامِ۔اِنْ يَّشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ فَيَظْلَكُنَ رَوَاكِدَ عَلَى ظَهْرِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَايَتِ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ " یعنی سمندر میں ہم ہوائیں چلاتے ہیں اگر وہ چلتی رہیں تو جہاز چلتے رہیں گے لیکن اگر ہوائیں ٹھہر جائیں تو پھر جہا نہیں چل سکتے۔تم کو یا د رکھنا چاہئے کہ اگر تم نے سمندروں میں کامیاب ہونا ہے تو تمہیں ہمیشہ یہ معلومات حاصل کرتے رہنا چاہئے کہ ہوائیں کس کس وقت چلتی ہیں اور کس کس رُخ چلتی ہیں۔اگر تم یہ علم ایجاد کر لو گے تو تمہارے جہاز ٹھیک چلیں گے اور اگر اس علم سے واقفیت پیدا نہیں کرو گے تو تمہارے جہا ز یا تو تم کو منزل مقصود تک نہیں پہنچائیں گے یا دیر سے پہنچائیں گے۔طب کی نہر چوتھا علم طب ہے جس کی طرف قرآن کریم میں توجہ دلائی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَا نُهُ فِيهِ علم ۱۵ شِفَآءٌ لِلنَّاسِ، إِنَّ فِي ذَلِكَ لَا يَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ها یعنی شہد کی مکھیوں کے پیٹ میں سے مختلف قسم کے شہر نکلتے ہیں اور اُن کے کئی رنگ ہوتے ہیں اور ہر قسم کا شہر کسی خاص بیماری کے لئے مفید ہوتا ہے۔مگر فر ما یا اِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ یہ نہیں فرمایا کہ جو ہماری اس بات کو مان کر کسی کو شہد پلا دے اُس کو فائدہ پہنچ جاتا ہے بلکہ فرمایا کہ ہم نے صرف ایک اشارہ کیا ہے آگے تمہیں خود غور کرنا پڑے گا۔چنانچہ اب اس کی تحقیقات ہوئی ہے اور پتہ لگا ہے کہ شہد کی مکھی جس قسم کے درختوں سے شہد لیتی ہے اسی قسم کا فائدہ اس شہد سے پہنچتا ہے۔مثلاً بعض جگہ شہد کی مکھی ایسے درختوں سے شہد لیتی ہے جن میں جلاب کا مادہ ہوتا ہے وہ شہد کھاؤ تو جلاب لگ جاتے ہیں۔بعض ایسی بوٹیوں سے لیتی ہیں جو ملیریا کو دُور کرنے والی ہوتی ہیں وہ شہد کھاؤ تو ملیریا کو فائدہ پہنچتا ہے۔غرض مختلف قسم کے شہد مختلف قسم کی بیماریوں کا علاج ہیں۔اسی لئے قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا