سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 666 of 900

سیر روحانی — Page 666

۶۶۶ نے کہا دوسو اونٹ کی حیثیت کیا ہے میں تمہارا مذہبی مکان گرانے کے لئے آیا ہوں میں مانتا یا نہ مانتا تمہاری عقل سے میں یہ امید کرتا تھا کہ تم کہو گے یہ میرا مذ ہبی مقدس مقام ہے اس کو چھوڑ دو مگر بجائے اس کے کہ تم مکہ کی سفارش کرتے ، خانہ کعبہ کی سفارش کرتے کہ اس کو چھوڑ دو تم نے اپنے دوسو اونٹوں کو یا د رکھا، میرے دل میں سے تو تمہاری ساری عزت جاتی رہی ہے۔حضرت عبدالمطلب نے جواب دیا کہ بادشاہ تم جو چاہو نتیجہ نکال لو۔باقی میں تو سمجھتا ہوں اور یہی میں نے آپ کو بتایا ہے کہ دوسو اونٹ میرے ہیں بھلا کیا حیثیت ہے دوسو اونٹ کی مگر مجھے ان کی فکر ہے کہ کسی طرح مجھے مل جائیں اور میں اُن کی حفاظت چاہتا ہوں۔تو اگر یہ اللہ کا گھر ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کو اس کی اتنی فکر نہیں ہوگی جتنی مجھے دوسو اونٹ کی ہے؟ اس جواب سے وہ ایسا متاثر ہو ا کہ اُس نے اُن کے اونٹوں کی واپسی کا حکم دے دیا مگر بیت اللہ پر حملہ کرنے کا ارادہ اُس نے ترک نہ کیا۔خیر وہ واپس آگئے اور انہوں نے ساری قوم کو کہدیا کہ پہاڑ پر چڑھ جاؤ اور مکہ کو خالی کر دو۔لوگوں نے کہا۔مکہ ہمارا مقدس مقام ہے۔کیا اس مقدس مقام کو ہم خالی کر دیں ؟ انہوں نے کہا میاں ! تمہارا مکان نہیں خدا کا مکان ہے۔تمہیں اس کا درد ہے تو خدا کو اس کا درد کیوں نہیں ہوگا جس کا یہ گھر ہے وہ آپ اس کی حفاظت کریگا۔تم چھوڑو اس کو اور باہر چلواللہ تعالیٰ اس کی آپ حفاظت کریگا۔اگر ہماری طاقت ہوتی تو ہم لڑتے لیکن ہم میں طاقت نہیں ہے۔اب یہ خدا کی ہی طاقت ہے کہ وہ اس حملہ کو روکے چنانچہ انہوں نے سب کو شہر سے نکالا اور پہاڑ پر چڑھ گئے۔۲۳ ابر ہہ کے لشکر کی تباہی مگر وہاں ایک دن انتظار کیا، دو دن انتظار کیا ، تین دن انتظار کیا جو اُس نے نوٹس دیا تھا کہ تین دن کے اندر میں حملہ کرونگا وہ تین دن گزر گئے اور کوئی بھی نہ آیا۔پھر چوتھا دن گزرا، پانچواں دن گزرا حیران ہو گئے کہ کیا بات ہے۔آیا اُس نے معاف کر دیا ہے یا کوئی اور بات ہوئی ہے آخر آدمی بھیجے گئے وہاں جو گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ میدانوں میں لاشیں ہی لاشیں پڑی ہوئی ہیں اور کوئی لشکر نظر نہیں آتا۔پتہ لیا تو طائف والوں نے بتایا کہ اُن میں بے تحاشا چیچک پھیلی۔وہ حبشی فوجیں تھیں اور حبشیوں میں چیچک پھیلتی ہے تو بالکل سیلاب کی طرح آتی ہے۔خصوصاً اُس زمانہ میں تو بیماریوں کے علاج ہی کوئی نہیں ہوتے تھے۔دیکھا کہ تمام میدان لاشوں سے اٹا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ بادشاہ کو بھی چیچک ہوئی اور لوگ اس کو ڈولی میں ڈال کر یمن کی طرف لے