سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 665 of 900

سیر روحانی — Page 665

میں طائف کا جو بڑا بت تھا اُس کے متعلق سمجھتے تھے کہ اس کو زیادہ عزت دینی چاہئے۔اُس نے اُن کو رشوت وغیرہ دی اور اس طرح اُن کے دلوں میں جو اپنی قوم کا ڈر تھا وہ اُتارا اور انہیں کہا کہ ہم کو مکہ پہنچاؤ وہ تیار ہو گئے جب لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو جیسا کہ پرانے زمانہ میں قاعدہ تھا ایک منزل پر پہنچ کر وہاں سے انہوں نے مکہ والوں کو نوٹس دیا کہ ہتھیار پھینک دو ورنہ تم پر حملہ کر دیا جائے گا۔اُس وقت جو مہذب حکومتیں تھیں وہ اسی طرح کیا کرتی تھیں۔چنانچہ اسلام میں بھی یہی طریق رائج ہے۔جب یہ حکم پہنچا تو مکہ کے لوگ گھبرا گئے۔انہوں نے کہا اتنا بڑا لشکر آیا ہے جو دس یا میں یا پچاس ہزار کا ہے اور مکہ میں سپاہی پانچ سات سو ہیں ان کا ہم کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں۔پھر ان کے ساتھ ہاتھی اور دوسری قسم کے سامان تھے ، اسی طرح منجنیقیں وغیرہ تھیں۔انہوں نے بہت منتیں سماجتیں کیں۔بادشاہ کے آگے ہاتھ جوڑے مگر اُس نے کہا میں نہیں مانتا تم اپنا کوئی وفد بھیجو۔میں یہ تو فیصلہ کر چکا ہوں کہ اس گھر کو گرا دونگا لیکن تمہارے لئے کوئی گزارہ مقرر کر دونگا کیونکہ تمہیں اس کے چڑھاووں سے آمدن ہوتی تھی یا اس کی زیارت کرنے کے لئے جو لوگ آتے تھے اُن سے آمدن ہوتی تھی۔پس میں تمہارے لئے کوئی جائداد مقرر کر دونگا اور تمہارا اس پر گزارہ ہو جائے گا مگر میں یہ نہیں مان سکتا کہ اس گھر کو نہ گراؤں یہ گھر تو میں نے گرا کر رہنا ہے۔چنانچہ وہ واپس گئے اور انہوں نے جاکے کہا کہ بادشاہ تو اس بات پر مُصر ہے کہ اس گھر کو میں ضرور گراؤں گا اب کوئی وفد بھیجا جائے۔چنانچہ انہوں نے ایک وفد بھیجا جس کا سردار حضرت عبدالمطلب کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے چنا گیا۔لوگوں نے اُن سے کہا کہ آپ جائیے اور کوشش کیجیئے کہ کسی طرح یہ گھر بچ جائے۔حضرت عبدالمطلب اور ابرہہ کی ملاقات یہ وہاں پہنچے تو بادشاہ نے ان کو بلایا اور ان سے پہلے اِدھر اُدھر کی باتیں کیں۔ملک کی سیاست کے متعلق باتیں کیں ، ملک کی اقتصادی حالت کے متعلق باتیں کیں ، قومیت کے متعلق باتیں کیں۔حضرت عبدالمطلب بڑے سمجھدار اور دانا تھے انہوں نے جو جواب دیئے بادشاہ اُن سے بہت متاثر ہوا اور اُس نے کہا یہ تو بڑا سمجھدار آدمی ہے۔خوش ہو کے اُس نے کہا کہ میں تو آپ سے مل کر بہت ہی خوش ہو ا ہوں مجھے توقع نہیں تھی کہ مکہ میں ایسے عقلمند بھی موجود ہیں آپ کوئی انعام مجھ سے مانگیں میں دینے کے لئے تیار ہوں۔انہوں نے کہا میرے دوسو اونٹ آپ کے سپاہی پکڑ لائے ہیں وہ مجھے واپس کر دیں۔بادشاہ کو غصہ چڑھ گیا اور اُس