سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 900

سیر روحانی — Page 45

۴۵ (۲)۔انسانوں میں عائلی زندگی پیدا کرنے کا حکم دیا گیا تھا وہ زندگی جو قبیلوں والی زندگی ہوتی ہے اور انہیں کہا گیا تھا کہ ایک مقام پر رہو اور اکٹھے رہو چنانچہ یہ امر أُسْكُنُ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ کے الفاظ سے ظاہر ہے۔(۳)۔آدم پر اور لوگ بھی ایمان لائے اور ایک جماعت تیار ہو گئی تھی جو نظام کے مطابق رہنے کے لئے تیار تھی۔اس کا ثبوت سورۃ طہ کی آیت قَالَا اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعاً بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ہے جَمِیعاً کا لفظ بتاتا ہے کہ اس سے مراد دونوں گروہ ہیں نہ کہ آدم اور کی اس کی بیوی اور بَعْضُكُمُ کا لفظ بتا تا ہے کہ وہ ایک جماعت تھی۔(۴)۔الْجَنَّةَ اور كُلاَ مِنْهَا رَغَدًا کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت کی معظم غذا پھل وغیرہ تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت تک سبزیوں ، ترکاریوں کے اُگائے جانے کا کام ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ نے کہیں میوہ دار درختوں کے جھنڈ پیدا کر دیئے اور انہیں حکم دیا کہ تم وہاں جا کر رہو۔شاید بعض لوگ کہیں کہ اتنے بڑے جُھنڈ کہاں ہو سکتے ہیں جس پر سینکڑوں لوگ گزارہ کر سکیں ؟ سوایسے لوگ اگر جنوبی ہند کے بعض علاقے دیکھیں تو ان پر الْجَنَّةَ کے لفظ کی حقیقت واضح ہو جائے۔وہاں بعض ہیں ہیں میل تک شریفے کے درخت چلے جاتے ہیں اور وہاں کے لوگ جن دنوں شریفہ پکتا ہے روٹی کھانی پالکل چھوڑ دیتے ہیں اور صبح شام شریفے ہی کھاتے رہتے ہیں۔اب تو گورنمنٹ انہیں نیلام کر دیتی ہے پہلے حکومت بھی ان کو نیلام نہ کیا کرتی تھی اور لوگ مفت پھل کھاتے تھے۔اسی طرح افریقہ میں آموں کے جنگل کے جنگل پائے جاتے ہیں ، کیلے بھی بڑی کثرت سے ہوتے ہیں، اسی طرح ناریل وغیرہ بھی بہت پایا جاتا ہے ، اسی طرح بعض علاقوں میں سیب ، خوبانی وغیرہ خودر و کثرت سے پائے جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کسی ایسے ہی مقام کو حضرت آدم علیہ السلام کے لئے منتخب فرمایا اور انہیں حکم دے دیا کہ وہاں جا کر ڈیرے لگا دو اور خوب کھاؤ پیو۔خلاصہ یہ کہ الْجَنَّةَ وغیرہ الفاظ سے جو قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت عام طور پر لوگوں کی غذا پھل تھے۔(۵)۔پانچویں بات قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اُس وقت ابھی کپڑے کی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور اس پر آیت طَفِقَا يَخْصِفْنِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ " شاہد ہے وہ چٹائیوں پر کی طرح بھوج پتر وغیرہ لپیٹ لیتے تھے اور رہائش کے لئے انہی کے خیمے بنا لیتے تھے۔اس کے