سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 631 of 900

سیر روحانی — Page 631

۶۳۱ آئیں تو اس طرح غلطیاں لگ سکتی ہیں۔بہر حال انہوں نے تدبیر اور کوشش سے بات دریافت کرنی ہوتی ہے ان کو غیب کا علم نہیں ہوتا لیکن قرآن کریم کے جو ڈائری نویس ہیں اُن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ وہ اِرد گرد کنسوئیاں لے کر پتہ نہیں لگاتے بلکہ ہر واقعہ کے اوپر کھڑے ہوتے ہیں اور ان کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ بات یوں ہوئی ہے۔اسی طرح میرے ساتھ ایک سابق گورنر پنجاب کا وائسرائے کے نام خط ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔جب میں ۱۹۲۴ء میں انگلستان گیا تو وہاں سے واپسی پر بمبئی گورنمنٹ کے ایک افسر نے ایک چٹھی کی نقل مجھے بھیجی۔وہ چٹھی گورنر پنجاب کی تھی اور تھی وائسرائے کے نام اُس کو مختلف صوبوں میں سرکلیٹ کیا گیا تھا کیونکہ بڑے بڑے اہم معاملات کو سرکلیٹ کیا جاتا ہے۔وہ چٹھی اُس نے میرے پاس بھیجی کہ یہ آپ کی دلچسپی کا موجب ہوگی اسے آپ بھی پڑھ لیں۔اُس چٹھی کو میں نے پڑھا تو حیران رہ گیا۔اُس چٹھی میں گورنر پنجاب سر میلکم ہیلی ( جو بعد میں لارڈ بن گئے ) وائسرائے کو لکھ رہے تھے کہ مجھے آپ کی طرف سے چٹھی پہنچی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ امام جماعت احمدیہ جو انگلینڈ گئے تھے تو وہاں اُن کے تعلقات سوویٹ یونین کے بڑے بڑے افسروں سے تھے اور وہ اُن سے مل کر مشورے کرتے تھے اس لئے اُن کی نگرانی کی جائے اور دیکھا جائے کہ اُن کو سوویٹ یونین کے لوگوں سے کیا دلچسپی ہے اور سوویٹ یونین کا اُن کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ اگر میں امام جماعت احمدیہ کا ذاتی واقف نہ ہوتا تو انگلستان کی سی آئی ڈی کی رپورٹ پر میں یقیناً اعتبار کرتا اور میں اس کو بڑی اہمیت دیتا لیکن میں ان کا ذاتی طور پر واقف ہوں وہ ایک مذہبی آدمی ہیں اور امن پسند آدمی ہیں۔وہ سوویٹ یونین یا اس کے منصوبوں کے ساتھ دُور کا بھی تعلق نہیں رکھتے اس لئے اپنے ذاتی علم کی بناء پر میں آپ کو لکھتا ہوں کہ اس میں کسی کارروائی کی ضرورت نہیں یہ غلط رپورٹ ہے اور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔آگے انہوں نے خود لکھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن کو بغیر علم کے بعض سوویٹ یونین کے بڑے بڑے آدمی ملے ہیں۔ہمارے آدمیوں کو چونکہ پتہ تھا کہ وہ سوویٹ یونین کے آدمی ہیں اس لئے انہوں نے سمجھا کہ اس میں کوئی بات ہوگی اور ان کو پتہ نہیں تھا۔ان کو ملنے والے آکر ملے تو انہوں نے ملاقات کر لی اور اس لئے کہ باقی لوگ بھی غلطی میں مبتلاء نہ رہیں وائسرائے نے وہ پٹھی گورنر بمبئی کو بھیجی۔شاید اوروں کو بھی بھیجی ہوگی بہر حال ان کے ایک افسر نے مجھے اس کی نقل بھجوائی کہ