سیر روحانی — Page 587
۵۸۷ ساتھ پڑھا کرتے تھے اور رشوت کے لئے انہوں نے نوکروں کو کہا ہوا تھا کہ اگر کوئی رشوت لایا کرے تو تہجد کے وقت اُس کو لانے کے لئے کہا کرو دن کو لوگوں کو پتہ لگ جاتا ہے۔غرض انہوں نے تہجد با قاعدہ پڑھنی اور نوکر نے بھی اُس کو باقاعدہ لا کر بٹھا دینا۔جب انہوں نے سلام پھیرنا تو اُس نے کہنا جناب میرا فلاں مقدمہ ہے۔وہ بڑے غصے سے کہتے او خبیث بے ایمان ! تو میرا ایمان خراب کرتا ہے۔تجھے پتہ نہیں کہ یہ رشوت ہے جو حرام ہے اور اسلام میں منع ہے۔وہ کہتا حضور! آپ ہی میرے ماں باپ ہیں اگر میرے بچوں کو اور بھائی کو نہیں بچائیں گے تو اور کون بچائے گا۔اس پر وہ کہتے تو بڑا بے ایمان ہے تو لوگوں کے ایمان خراب کرتا ہے۔وہ کہتا جی میں آپ کے سوا کس کے پاس گیا ہوں۔وہ کہتے او خبیث ! رکھ مصلی کے نیچے اور جا دُور ہو جا میرے آگے سے۔پس مصلی کے نیچے رشوت رکھ لینی اور سمجھ لینا کہ اب مصلی کی برکت سے یہ مال پاک ہو گیا ہے اور پھر اُٹھا کے رکھ لینا۔تو اکثر لوگ اخلاق اور مذہب کو الگ الگ سمجھتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اخلاقی کمزوریاں ہوں تو اس سے مذہب کا کوئی تعلق نہیں۔اگر نماز ہم نے پڑھ لی تو اس کے بعد اگر کسی کو تھپڑ مار لیا یا کسی کا روپیہ ٹوٹ لیا یا کسی سے رشوت لے لی یا کسی پر ظلم کر لیا، کسی پر سختی کر لی تو کیا ہے ہم نے نماز تو پڑھ لی ہے۔اللہ تعالیٰ کو کافی رشوت دے دی ہے اللہ میاں اور ہم سے کیا چاہتا ہے۔مگر اسلام اس پر زور دیتا ہے کہ خواہ سیاسی امور ہوں خواہ اقتصادی اپنے محرکات کے لحاظ سے سب کے سب دین کا ہی حصہ ہوتے ہیں اور دین کو بڑھاتے یا کم کرتے ہیں عبادت کو اچھا یا خراب بناتے ہیں اور قومی کام بھی اسی طرح اخلاق کی حکومت کے نیچے ہیں جس طرح انفرادی احکام۔اخلاق کا دائرہ صرف افراد تک محدود نہیں یہ ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا اصل ہے جس میں اسلام دوسری قوموں سے بالکل ممتاز ہے اور اسی امر پر عمل کرنے سے دُنیا بلکہ قومیں اور حکومتیں بھی اس میں شامل ہیں! میں صلح اور امان پیدا ہوتی ہے۔باوجود اس کے کہ یورپ انفرادی لحاظ سے انصاف اور آزادی میں ہمارے ملکوں سے بہت بڑھا ہوا ہے۔انگلستان میں جو سلوک ایک چور سے کیا جاتا ہے، جو نیک سلوک ایک بدمعاش سے کیا جاتا ہے، جو نیک سلوک ایک ڈاکو سے کیا جاتا ہے، ہم ایک راستباز اور نیک آدمی سے بھی حکومت میں نہیں کرتے۔غرض انفرادی طور پر وہ لوگ امن اور چین دینے میں بہت بڑھے ہوئے ہیں لیکن