سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 585 of 900

سیر روحانی — Page 585

۵۸۵ کا ذکر نہ ہو بہر حال یہ تمہارے ہی ہیں۔اُس پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ اُس نے وہاں جا کر اخباروں میں اعلان کرایا کہ ہماری لسٹوں سے بھی زائد سامان ہمیں دیا گیا ہے۔حکومت کی جو یسٹیں تھیں اس سے ہی زائد سامان نہیں دیا گیا بلکہ جو ہماری لسٹیں تھیں اُن سے بھی زائد سامان دیا گیا۔دوسرے دن وہی تھانیدار جو علاقہ کا تھا پھر آیا اور کہنے لگا میں نے ملنا ہے۔میں نے اُسے بلوالیا اور پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا مجھے تو رات نیند نہیں آئی، میرا خون کھولتا رہا ہے۔میں نے کہا۔کیوں ؟ کہنے لگا آپ کے آدمیوں نے بڑا بھاری ظلم کیا ہے۔ان کم بختوں نے ہمیں لوٹ کر تباہ کر دیا ہے اور آپ ان سے یہ سلوک کر رہے ہیں۔کہنے لگا میں بھی گورداسپور کا ہی ہوں۔ہمارے گھر انہوں نے لوٹ لئے ، تباہ کر دیے وہ تو خیر سرکاری ظلم تھا کہ اس کو یسٹوں کے مطابق مال دے رہے تھے آخر ساروں کو کب مل رہا ہے۔مگر ان لوگوں نے تو جو مال لسٹوں میں نہیں لکھا وہ بھی انہیں لا کر دیا گیا ہے۔میں نے کہا میں آپ کو ایک نئی بات کی بتاؤں ان لوگوں کا کچھ زیور میرے پاس پڑا تھا وہ بھی میں نے ان کو دیدیا ہے وہ اُن کی لسٹ میں بھی نہیں تھا۔کہنے لگا یہ تو بڑا ظلم ہے۔اتنے ظلم کے بعد آپ کا اِن سے یہ معاملہ میری عقل میں نہیں آتا۔میں نے کہا آپ یہ تو فرمایئے آخر میں نے اِن کا مال کیوں رکھ لینا تھا ؟ کہنے لگا انہوں نے ہمارا مال وہاں رکھا ہے۔میں نے کہا اگر تم ثابت کر دو کہ میری کوٹھی کا مال اس نے رکھا ہے تو مجھے بڑا افسوس ہوگا کہ میں نے اُس کو اُس کا مال واپس دے دیا ہے۔لیکن اگر اُس نے نہیں رکھا کسی اور نے رکھا ہے تو یہ تو بتاؤ کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی ، مارے کوئی اور سزا کسی کو دی جائے۔میں نے کہا تم عدالت میں یہی کیا کرتے ہو۔وہ کہنے لگا ہم اس طرح توت نہیں کیا کرتے لیکن یہ تو بُری بات ہے کہ یہ اپنا مال لے جائیں۔میں نے کہا لے جائیں۔یہ تو خدائی مصیبتیں ہیں جو آتی رہتی ہیں۔انسان گر کے بھی مرجاتا ہے اور زلزلے آتے ہیں تو بھی تباہ ہو جاتے ہیں کسی انسان پر الزام نہیں آتا۔بہر حال اس نے میرا مال نہیں لیا۔جس نے لیا ہے اُس کا مال میرے پاس لاؤ پھر میں سوچوں گا کہ رکھ لینا چاہئے یا نہیں چونکہ اس نے ہما را مال نہیں رکھا ا سلئے ہم نے بھی اس کا مال نہیں رکھا۔ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے ایک مجسٹریٹ مجھ سے ملنے کیلئے آیا۔اُس نے کہا میرے دل میں سخت جلن تھی اور مجھے مسلمانوں کے افعال دیکھ کر سخت تکلیف محسوس ہوتی تھی۔مگر میں نے لاہور میں آکر آپ کی تقریر سنی آپ نے یہ بات بتائی تھی کہ ان لوگوں پر ظلم نہیں کرنا