سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 900

سیر روحانی — Page 497

۴۹۷ تھی اور چونکہ آپ کے ہاں کوئی نرینہ اولا د بھی نہیں تھی اس لئے دشمن اپنی نا بینائی کی وجہ سے کہتا کہ یہ نَعُوذُ بِاللهِ اونتر انکھترا ( پنجابی ) یعنی بے نسل ہے نہ روحانی لحاظ سے اس کی کوئی جمعیت ہے اور نہ جسمانی لحاظ سے اس کی کوئی نرینہ اولاد ہے۔ایسے حالات میں خدا تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور اُس نے کہا اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تجھے خیر کثیر عطا کرنے والے ہیں اور تیرے ان مخالفوں کو جو آج تجھے مٹانے پر کمر بستہ ہیں ابتر بنانے والے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا نچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کلام پر جوں جوں دن گزرتے چلے گئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ سے زیادہ خیر کثیر ملتی چلی گئی کو زیادہ سے زیادہ خیر اور برکت مالتی چلی گئی اور آپ کے مخالفوں کے حصہ میں زیادہ سے زیادہ نا کامی اور نا مرادی آتی گئی اور آخر وہ دن آیا کہ وہی شخص جسے اندھیری رات میں مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا ، جس کے قتل کے منصوبے کئے گئے تھے ، جس کو مٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا تھا، دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں فاتحانہ طور پر داخل ہوا اور اُس نے تمام مکہ کے لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر کے پوچھا کہ بتاؤ اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ انہوں نے کہا ہم آپ سے اسی سلوک کی امید رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا تھا۔آپ نے فرمایا جاؤ میں نے تم سب کو معاف کر دیا۔4 ابوسفیان کا اقرار کہ محمد رسول اللہ دنیا مکہ کے لوگ مجھتے تھے کہ یہ اکیلا شخص کب تک اپنے مشن کو قائم رکھ سکتا ہے یہ آج نہیں تو کل تباہ کا سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے ہوجائیگا مگر خدا اسے کوثر دینے کا وعدہ فرما چکا تھا۔اُس نے آپ کے ماننے والوں میں اتنی کثرت پیدا کی کہ ابوسفیان نے جب فتح مکہ کے موقع پر اسلامی لشکر کو دیکھا تو بے اختیار وہ حضرت عباس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا عباس! تمہارے بھائی کا بیٹا آج دنیا کا سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔1 کفار کے بیٹے محمد رسول اللہ صلی اللہ پھر ان لوگوں کو اپنے بیٹوں پر بڑا نا ز تھا، مگر خدائی نشان دیکھ کر وہی عاص بن وائل جو بڑے علیہ وسلم کی غلامی میں آگئے تکبر سے اپنا نہ بند ٹکائے پھرتا اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہا کرتا تھا اُس کا اپنا بیٹا