سیر روحانی — Page 485
۴۸۵ الہی خطابات کو چھینے کی کوئی شخص طاقت نہیں رکھتا غرض اس دربار میں خطابات تقسیم ہوتے ہیں تو باہم چپقلش اور رقابت شروع نہیں ہو جاتی اور پھر خطابات ملتے ہیں تو وہ نہ صرف حقیقت کے مطابق ہوتے ہیں بلکہ دنیا لاکھ کوشش کرے وہ اُن کو چھینے کی طاقت نہیں رکھتی۔اس دربار سے اگر کسی کو نبی کا خطاب دیا گیا تو وہ نبی فوت ہو چکا اور ہزار ہا برس اس کی وفات پر گزر گئے مگر نبی کا خطاب موجود ہے اور اگر اس سے کوئی منکر ہوتا ہے تو فوراً با غیوں میں شریک ہو جاتا ہے حکومت بدل گئی ، گورنر کے بعد گورنر تبدیل ہوئے مگر مجال ہے کہ پُرانے گورنر کی کوئی ہتک کر سکے اور اُس کے درجہ کو کم کر سکے! غرض یہ وہ دربار ہے جس میں درباری کو جو خطاب دیا جاتا ہے اُس کے چھینے کی کسی میں طاقت نہیں ہوتی اور پھر جو خطاب دیا جاتا ہے وہ بالکل سچا اور حقیقت کے مطابق ہوتا ہے۔اگر کسی کو بہا در کہتا ہے تو وہ بہادر ہی ہوتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ حکومت اسے ” خان بہادر کہے اور وہ ایک چھو ہے سے بھی ڈرتا رہے۔رض محمد رسول اللہ اور صحابہ کرام کو ایک اور عظیم الشان خطاب پھر ہم نے دیکھا کہ اور اور اسی قسم کا ایک اور اعلان بھی اس دربار سے ہو رہا تھا اور دربارِ خاص کا مالک اپنے گورنر جنرل کے متعلق کہہ رہا تھا کہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةٌ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ تَراهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سِيمَا هُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۸۷ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور وہ لوگ جو اُن پر ایمان لاکر ان کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں کفار کے لئے بڑے سخت واقع ہوئے ہیں مگر ان کا آپس میں سلوک انتہائی رحم اور شفقت پر مبنی ہے تو انہیں دیکھے گا کہ وہ رات اور دن خدا تعالیٰ کے حضور رکوع وسجود میں بسر کرتے اور اس کا فضل تلاش کرتے ہیں اور اس کی رضا کے حصول کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں اور اُنکی اس پاکیزہ زندگی کا نشان خود ان کے چہروں سے عیاں ہو گیا ہے۔ات مؤثرہ اور قوت متاثرہ کے کرشمے حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسا بنا یا ہے کہ وہ ایک طرف تو اپنے