سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 900

سیر روحانی — Page 476

آپ کے صحابہ کی زندگی کے حالات پر نگاہ ڈالی جائے تو ہر شخص کو یہ اقرار کرنے پر مجبور ہونا پڑیگا کہ ان میں یہ خوبی نہایت نمایاں طور پر پائی جاتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو بڑی شان عطا فرمائی مگر ہر قسم کی طاقت اور شوکت رکھنے کے باوجود انہوں نے غرباء اور مساکین کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھا اور اُنکی تکالیف کو دُور کرنے کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔حلف الفضول میں شمولیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے کہ مکہ کے بعض شرفاء نے ایک سوسائٹی بنائی جس کا کام یہ تھا کہ جو لوگ مظلوم ہوں اُن کی امداد کی جائے اس سوسائٹی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل ہوئے اور چونکہ اس کے بانیوں میں سے اکثر کے نام میں فضل آتا تھا اس لئے اس کا نام حلف الفضول رکھا گیا۔اس واقعہ پر سالہا سال گزرنے کے بعد ایک دفعہ صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ يَا رَسُولَ اللہ یہ کیسی سوسائٹی تھی جس میں آپ بھی شریک ہوئے تھے؟ غالباً صحابہ کا منشاء یہ تھا کہ آپ تو نبی ہونے والے تھے آپ ایک انجمن کے ممبر کس طرح ہو گئے جس میں دوسروں کے ماتحت ہو کر کام کرنا پڑتا تھا۔آپ نے فرمایا یہ تحریک مجھے ایسی پیاری تھی کہ اگر آج بھی مجھے کوئی اس کی طرف بلائے تو میں اس میں شامل ہونے کے لئے تیار ہوں۔۳ سے گویا غرباء کی امداد کے لئے آپکو دوسروں کی ماتحتی میں بھی کوئی عار نہیں تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک ثبوت بھی انہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مظلوم دنوں بہم پہنچا دیا۔مکہ کے قریب کا ایک شخص کے متعلق ابو جہل سے مطالبہ شخص تھا جس کا ابو جہل کے ذمہ کچھ قرض تھا اُس نے ابو جہل سے اپنے روپے کا مطالبہ شروع کر دیا مگر ابو جہل اس کی ادائیگی میں لیت و لعل کرتا رہا۔آخر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ابو جہل نے میرا اتنا روپیہ مارا ہوا ہے آپ مجھے میرا حق دلا دیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب ابو جہل آپ کے قتل کا فتوی دے چکا تھا اور ملکہ کا ہر شخص آپ کا جانی دشمن تھا۔جب آپ باہر نکلتے تو لوگ آپ پر پتھر اور مٹی پھینکتے ، بیہودہ آوازے کستے اور ہنی اور تمسخر کرتے مگر آپ نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور فوراً اُس آدمی کو ساتھ لے کر ابو جہل کے مکان پر پہنچے اور دروازہ پر دستک دی۔ابو جہل نے دروازہ کھولا تو وہ یہ دیکھ کر