سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 900

سیر روحانی — Page 475

۴۷۵ ملیں۔دنیوی بادشاہ افسر مقرر کر کے یہ چاہتے ہیں کہ اب وہ اچھے ہتھیا ر اور اچھے معاون خود تلاش کریں مگر اس دربار میں میں نے یہ عجیب بات معلوم کی کہ گورنر جنرل کے مقرر ہوتے ہی یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اسے بہترین ہتھیار اور بہترین معاون ہم خود دینگے اسے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی چنانچہ اس خدائی گورنر جنرل کے متعلق یہ اعلان کیا گیا کہ كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ - فِي صُحُفِ مُكَرَّ مَةٍ - مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ - بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَ رَةٍ ٢ قرآنی اسلحہ اے لوگو سنو! ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کا روحانی حاکم مقررفرما دیا ہے اور اسے ایک ایسے ہتھیار کے ساتھ صلح کیا ہے جس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ جسموں کو نہیں بلکہ دلوں اور دماغوں کو فتح کرتا ہے پھر یہ ہتھیا را ایسا نہیں جس کی چوٹ کھا کر لوگ زخموں سے تڑپنے اور تلملا نے لگ جائیں بلکہ فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ لوگ اس ہتھیار کی چوٹ کھانے اور اس کا شکار ہونے میں ایک لذت اور سرور محسوس کرتے ہیں۔یہ روحانی ہتھیار صُحُفِ مُكَرَّمَةٍ میں ہے یعنی پہلی الہامی کتب کی تمام اعلیٰ درجہ کی اخلاقی اور روحانی تعلیموں کو اس میں جمع کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے لوگ اسے اپنے سروں پر اُٹھائے پھر میں گے اور کوئی نقص اس میں نہیں پائیں گے۔حاملین قرآن کی عظمت یہ ہتھیار بِايْدِی سَفَرَةِ ہوگا یعنی ایسے سپاہیوں کے ہاتھوں میں دیا جائیگا جو مسافر بھی ہونگے اور لکھنے والے بھی ہونگے یعنی ایک طرف وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کے دلوں کو فتح کرنے کے لئے دُور دُور کا سفر کرینگے جیسے صحابہ قرآن کریم کو اپنے ہاتھ میں لے کر ہندوستان، ایران، عراق، مصر، بربر اور روم وغیرہ تک چلے گئے اور دوسری طرف آئندہ زمانہ کے لوگوں کے دل فتح کرنے کے لئے وہ اس کتاب کو لکھ لکھ کر پھیلا دینگے تا کہ ہر زمانہ کے لوگ اِس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔وہ دنیا کو اس ہتھیار سے فتح کرنے کی وجہ سے کرام ہو جائیں گے لیکن معزز ہونے کی وجہ سے وہ مغرور نہ ہونگے بلکہ بَرَدَة ہوں گے یعنی دوسروں پر احسان کرنے والے اور اُن کے غمخوار اور اپنی ترقی کو ذاتی بڑائی کا موجب نہیں بنائیں گے بلکہ اُسے محتاجوں کی تکلیفیں اور غرباء کی مشکلات دور کرنے کا موجب بنائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی غرباء پروری نانا نچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور