سیر روحانی — Page 437
۴۳۷ ہے اسے دربارِ خاص میں بلایا جاتا ہے اور اعلان پڑھا جاتا ہے کہ ہم نے آپ کو مقرر کیا اب ہم آپ کو ہدائتیں دیتے ہیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے کس طرح کرنا ہے اور کس کس طریق سے اس کام کو سرانجام دیتا ہے چنانچہ فرماتا ہے یا يُّهَا الْمُدَّثِرُ۔قُمْ فَانْذِرُ۔وَرَبَّكَ فَكَبِّرُ۔وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ۔وَالرُّجُزَ فَاهْجُرُ۔وَلَا تَمُنُنُ تَسْتَكْثِرُ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ ] میلادالنبی کے وعظ یہ آیات تو قرآن کریم میں تیرہ سو سال سے موجود ہیں اور علماء نے ان آیات کی تفسیر میں بھی لکھی ہیں لیکن آج کل کے مولویوں کے وعظ خصوصاً میلادالنبی کے تم نے سنے ہی ہوں گے ، جب وہ ان آیات کی تفسیر شروع کرتے ہیں تو کہتے ہیں۔او کملی والیا! اے زُلفاں والیا ! اے کملی والیا! ایک ہندو وکیل سے گفتگو میں ایک دفعہ فیروز پور گیا وہاں ایک ہندو وکیل جو اچھا ہوشیار اور آریہ سماج کا سیکرٹری تھا مجھ سے ملنے کے لئے آیا اور کہنے لگا آپ کہتے ہیں ہندو مسلمان لڑتے رہتے ہیں مگر کیا آپ نے کبھی بتایا بھی کہ اسلام کیا چیز ہے؟ میں نے کہا تمہیں کیا بتا ئیں؟ کہنے لگے، میلاد النبی کا جلسہ ہوتا ہے تو ہم بھی جاتے ہیں کہ وہاں چل کر پتہ لگائیں گے کہ اسلام کیا ہوتا ہے مگر وہاں ہمیں یہ سنایا جاتا ہے کہ اے کملی والیا! اے زلفاں والیا! کہنے لگا ہم زُلفیں دیکھنا نہیں چاہتے ہم کملی دیکھنا نہیں چاہتے ہم تو تعلیم سنا چاہتے ہیں مگر بجائے یہ بتانے کے کہ رسول اللہ کی تعلیم کیا تھی آپ کے کیا کام تھے اور آپ کی کیا خدمات تھیں ہمیں بتایا یہ جاتا ہے کہ آپ کی زلفیں ایسی تھیں اور آپ کی کملی ایسی تھی ہم عشق مجازی تو نہیں کرنا چاہتے کہ ہمیں یہ باتیں بتائی جاتی ہیں۔شرمندگی تو بہت ہوئی مگر خیر میں نے کہا لوگ غلطی کرتے ہیں ہمارا نقطہ نگاہ بھی آپ کبھی سن لیں۔کہنے لگا میں نے آپ کی ایک تقریر سنی ہے اور اس سے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا طرز اور ہے مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ساتھ یہ سلوک ہوتا ہے اس کے بعد یہ خواہش کرنا کہ ہم مسلمان ہو جائیں اور ہم سے اس کی امید رکھنا کس طرح درست ہوسکتا ہے کیا کملی دیکھ کر کوئی مسلمان ہو سکتا ہے یا زُلفیں دیکھ کر کوئی مسلمان ہو سکتا ہے؟ دربارِ خاص کا نقشہ دوسرے مسلمانوں کے نقطہ نگاہ سے پس غیر احمدی بھی اس دربار کا نقشہ کھینچتے ہیں لیکن۔