سیر روحانی — Page 432
۴۳۲ کتنا بڑا اعزاز کیا گیا۔محبت اور اتحاد کا کمال اللہ تعالیٰ سورہ نجم میں فرماتا ہے وَهُوَ بِالْاُ فُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَ لَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْأَدْنَى لا یعنی بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا اور پھر وہ درباری اس کے قریب ہو ا جس کے بعد بادشاہ اپنے عرش سے اُتر کر اُس کے پاس آ گیا اور اتنا اُس کے قریب ہو گیا کہ یوں نظر آتا تھا جیسے دو قوسیں آپس میں ملا کر کھڑی کر دی گئی ہیں۔گویا در بار لگا بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا اور اُس نے اپنے اس درباری کو بلایا جس کے لئے دربارِ خاص منعقد کیا گیا تھا اورحکم بھیجا کہ ہمارے دربار میں حاضر ہو جاؤ ہم تمہارا اعزاز کرنا چاہتے ہیں۔یہاں تک تو باقی بادشاہوں سے بات ملتی ہے لیکن دنیا کے درباروں میں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کو کسی عہدے پر مقرر کیا جاتا ہے وہ کھسک جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس کا اہل نہیں۔لیکن اس دربار کے متعلق فرماتا ہے کہ خدائی حکم کے ملتے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے قریب ہو گئے اور دوسرے درباروں کے خلاف جن میں بادشاہ اپنی جگہ سے کھسکتا نہیں خدا تعالیٰ عرش عظیم سے اُتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا اور اتنا قریب ہوا کہ یوں نظر آتا تھا گویا دو قومیں آپس میں ملا کر کھڑی کر دی گئی ہیں۔دوسری جگہ عام انسانوں کے متعلق بھی خدا تعالیٰ کا یہ فعل موجود ہے چنانچہ فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الأبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ ٣ ابصار خدا تک نہیں پہنچتیں کیونکہ وہ ناکام رہ جاتی ہیں مگر خدا خود لوگوں کی آنکھوں تک پہنچ جاتا ہے۔قَابَ قَوْسَینِ کا نظارہ غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا گیا اور آپ اس کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چلے مگر جب چلے تو اللہ تعالیٰ اپنی محبت کے جذبہ میں اپنی جگہ پر نہ ٹھہرا بلکہ آپ نیچے اتر آیا۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى اور اُس نے اُتر کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہم تجھے اپنا گورنر بنانا چاہتے مگر ہماری گورنری ایسی نہیں ہوتی جیسی دنیا کی گورنریاں ہوتی ہیں ہم تجھے گورنر بھی بنانا چاہتے ہیں اور اپنا دوست بھی بنانا چاہتے ہیں۔اب ہم دونوں کی قوسیں ایک ہوگئی ہیں۔اے محمد ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تیرے بھی دشمن ہوں گے اور کچھ میرے بھی دشمن ہونگے ہیں