سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 900

سیر روحانی — Page 22

۲۲ تجسس کا مادہ اس میں پیدا ہو گیا اور وہ بصیر اور سمیع بن گیا۔دیکھتا تو ایک جانور بھی ہے مگر وہ باصر ہوتا ہے بصیر نہیں ہوتا۔بصیر وہ ہوتا ہے جو عقل سے کام لے اور گرید، تحقیق اور ایجاد کا مادہ اس میں موجود ہو اور یہ انسانی صفات ہی ہیں حیوانی نہیں۔پس چوتھا دور انسان پر وہ آیا جب کہ وہ سامع اور باصر وجود سے سمیع و بصیر بنا یعنی گرید، تحقیق ایجاد اور ترقی کا مادہ اس میں پیدا ہو گیا کی اور وہ حیوانی حالت سے ترقی کر کے حیوانِ ناطق بن گیا۔یہ سب دوروں کی ابتدائی کڑیاں ہیں، درمیانی زمانوں کا ذکر خدا تعالیٰ نے چھوڑ دیا ہے کیونکہ قرآن کوئی سائنس کی کتاب نہیں وہ ضروری باتوں کا ذکر کر دیتا اور باقی امور کی دریافت کو انسانی عقل پر چھوڑ دیتا ہے پس ان چار دوروں کا یہ مطلب نہیں کہ انسان پر یہی چار دور آئے بلکہ یہ چار دوروں کی ابتدائی کڑیاں ہیں ان کے درمیان اور بھی بہت سی کڑیاں ہیں چنانچہ بعض درمیانی کڑیوں کا حال بھی قرآن کریم کی بعض اور آیات سے معلوم ہوتا ہے مثلاً فرما تا ہے۔وَاللهُ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا " پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ وَاللهُ أَنْبَتَكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا کہ خدا نے تمہیں زمین میں سے نکالا ہے اور یہاں یہ فرمایا ہے کہ خدا نے تمہیں خشک مٹی میں سے پیدا کیا ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ پھر نطفہ سے پیدا کیا یہاں پھر درمیانی دوروں اور درمیانی دوروں کی مختلف کڑیوں کا ذکر چھوڑ دیا ہے۔چنانچہ میں آگے چل کر ثابت کرونگا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واقع میں بعض دور چھوڑ دیئے ہیں۔غرض فرماتا ہے پھر ہم نے نطفہ بنایا اور تم نرومادہ سے پیدا ہونے لگ گئے۔ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا پھر ہم نے تم کو انسانِ کامل بنایا ، ایک ایسا انسان جو تمدنی صورت اختیار کر گیا اور با قاعدہ نظام میں منسلک ہو گیا۔لفظ ازواج کی تشریح یہاں ازواج کے معنے مرد عورت کے نہیں کیونکہ پہلے نطفے کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا اس نے تم کو ازواج بنایا۔اگر ازواج کے معنے مرد عورت کے ہی ہوں تو ان الفاظ کے الگ لانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔نطفہ کے ذکر میں ہی یہ بات آ سکتی تھی کیونکہ نطفہ سے اسی وقت پیدائش ہوتی ہے جب مرد عورت دونوں موجود ہوں مگر اللہ تعالیٰ نے پہلے نطفہ کا ذکر کیا ہے اور اس کے بعد فرمایا ہے کہ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ ازواج سے مراد مرد و عورت نہیں بلکہ کچھ اور مراد ہے۔