سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 900

سیر روحانی — Page 413

۴۱۳ راجہ کے کان میں دے دی۔تم سمجھ لو کہ ایک چپڑاسی چوری بردار ایسی حرکت کرے تو راجہ کی کیا حالت ہوگی وہ واقع میں پاگل ہو جائے گا چنانچہ وہ بے تحاشا اُٹھا اور اُس نے ہاتھ اور پاؤں سے اُسے مارنا شروع کر دیا۔دوسرے لوگ تو چاہتے تھے کہ اس نظارہ کو وسیع کریں چنانچہ دوسری پارٹی میں جو لوگ شامل تھے وہ آگے بڑھے اور انہوں نے کہا حضور ! اس کا کوئی قصور نہیں ، حضور! اس پر ایسی سختی نہیں کرنی چاہئے۔اسے اور غصہ آیا اور اُس نے اُن کو بھی مارنا شروع کر دیا۔اتنے میں کمشنر اور سول سرجن اندر داخل ہوئے اور سارے درباری ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے کہ حضور ! روز ہمارے ساتھ یہی سلوک ہوتا ہے، چنانچہ رپورٹ ہو گئی کہ راجہ پاگل ہو گیا ہے اور اس کا بیٹا قبول کر لیا گیا جو بڑا ہو کر ریاست کا حکمران بنا غرض یہ یہ کارروائیاں دربارِ خاص میں ہوتی تھیں۔بیگمات کے جوڑ توڑ پھر دنیوی بادشاہوں کے دربارِ خاص میں جوڑ توڑ کے جو نتائج پیدا ہوتے تھے وہ زیادہ تر شہزادوں اور بیگمات کی وجہ سے پیدا ہوتے۔تھے کیونکہ اُس زمانہ کے لحاظ سے شہزادے اور بیگمات حکومت کے حق دار سمجھے جاتے تھے بلکہ سے ملکوں میں تو بیگمات کو اب بھی حکومت میں حصہ دار سمجھا جاتا ہے۔آج تک انگلستان میں ملکہ تخت نشینی کے وقت بادشاہ کے ساتھ بیٹھتی ہے اور اُس کو ملک کا حصہ دار سمجھا جاتا ہے اور شہزادوں میں سے ہر شہزادہ خود بادشاہت حاصل کرنے کا خواہشمند ہوتا تھا۔ایک کہتا تھا کہ میرا بڑا بھائی جو اتفاقاً مجھ سے بارہ مہینے پہلے پیدا ہوا ہے بادشاہ بن جائے گا۔اگر بارہ مہینے پہلے میں پیدا ہوتا تو میں بادشاہ بن جاتا ، چنانچہ وہ کہتا ہے اس کو مارو میں بادشاہ ہو جاتا ہوں۔اگلا کہتا ہے اس کو مارو میں ہو جاتا ہوں۔شاہجہان کے زمانہ میں اس کی زندگی میں ہی بیٹوں نے کہا کہ یہ تو نہ معلوم کب مرے پہلے اپنے لئے میدان تیار کرو۔چنانچہ دارا اور مراد اور شجاع اور اورنگ زیب نے لڑ لڑا کر اپنے باپ کی حکومت کو ختم کر دیا بادشاہ کی تخت نشینی کی جو ساری مدت بتائی جاتی ہے اس میں سے پچاس فی صدی زمانہ ایسا ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بادشاہ سلامت اتنا عرصہ قید رہے۔قرآنی دربارِ خاص کی نرالی شان ان دنیوی بادشاہوں کے دربارِ خاص کے مقابلہ میں میں نے قرآنی دربارِ خاص کو دیکھا تو مجھے اس کی شان ہی اور نظر آئی۔میں نے دیکھا کہ یہ بادشاہ جو قرآنی در بار خاص کا مالک تھا اولاد