سیر روحانی — Page 412
۴۱۲ کر سب کو دکھا دیا جائے گا کہ رانی کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے۔اتفاقاً اُس شخص کا جو اُس وقت سرشتہ دار تھا اور بعد میں ہائی کورٹ کا حج بن گیا بچہ پیدا ہو ا جو راجہ کا بیٹا قرار دیدیا گیا۔انہوں نے یہ منصوبہ کر کے تمام شہر میں مشہور کر دیا کہ رانی حاملہ ہے راجہ محسوس کرتا تھا کہ یہ بات غلط ہے اس کی بڑی عمر ہو چکی تھی اور وہ سمجھتا تھا کہ میرے ہاں اولاد نہیں ہوسکتی۔اس کے دل میں محبہ پیدا ہوا اور اُس نے ناراضگی کا اظہار شروع کر دیا کہ یہ بڑی غیر معقول بات ہے یہ دھوکا اور فریب ہے جو مجھ سے کیا جا رہا ہے۔اس سے دوسری رانی کو موقع مل گیا اور اس نے کہا یہ دھو کا فلاں فلاں وزیر کر رہا ہے۔راجہ نے ان کے خلاف باتیں کرنی شروع کر دیں اور ادھر گورنمنٹ کو لکھ دیا کہ کہا جاتا ہے کہ رانی حاملہ ہے حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے ، رانی ہرگز حاملہ نہیں۔مگر جہاں حکومت کا ایک بڑا حصہ سازش میں شریک ہو وہاں کسی لیڈی ڈاکٹر کا خرید لینا کونسی مشکل بات تھی۔چنانچہ معائنہ کرایا گیا اور لیڈی ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ رانی حاملہ ہے۔جب یہ جھگڑا بڑھا تو گورنمنٹ کے پاس رپورٹ کی گئی۔اُس وقت راجے وائسرائے کے ماتحت نہیں ہوتے تھے بلکہ پنجاب کے، پنجاب کے گورنر کے ماتحت اور یو، پی کے یو، پی کے گورنر کے ماتحت ہوتے تھے اور پھر آگے ان کا براہِ راست تعلق کمشنر کے ساتھ ہوتا تھا۔جب رپورٹ کی گئی تو پنجاب کے لیفٹینٹ گورنر نے کمشنر کو لکھا کہ تحقیقات کر کے فیصلہ کرو جھگڑا لمبا ہو رہا ہے۔ادھر سے اُس پارٹی کے افراد نے رپورٹ کرنی شروع کر دی کہ راجہ پاگل ہو گیا ہے تا کہ راجہ کی باتوں کا ازالہ ہو آخر دونوں طرف کی رپورٹوں پر کمشنر ایک دن سول سرجن کو ساتھ لے کر چلا۔چونکہ دوسرے فریق نے خود اس بات کو مشہور کیا تھا اس لئے اسے بھی خیال تھا کہ کمشنر آ جائے گا۔انہوں نے پہلے سے ایسا انتظام کیا ہوا تھا کہ دفتر سے پتہ لگ جائے کہ کمشنر کب چلا ہے۔چنانچہ انہیں پتہ لگ گیا کہ کمشنر فلاں دن آ رہا ہے انہوں نے آدمی مقرر کر دیئے کہ جب اس کی سواری قریب پہنچے تو اشارہ کر دیا جائے کہ کمشنر آ رہا ہے اور پھر اندر بھی انہوں نے انتظام کیا ہوا تھا۔راجہ تخت پر بیٹھا ہوا اپنے دبدبہ اور شان کا اظہار کر رہا تھا کہ میں تم لوگوں کو سیدھا کروں گا اور تمیں یوں سزا دوں گا۔اور اُدھر انہوں نے اُس چپڑاسی کو جو چوری لے جھل رہا تھا اپنے ساتھ ملایا ہو ا تھا اور اس کو سکھایا ہوا تھا کہ جونہی ہم اشارہ کریں تو کان میں جھک کر راجہ کو ایک بڑی گندی گالی دے دینا۔بس ادھر انہوں نے اشارہ کیا کہ کمشنر صاحب آ رہے ہیں اور ادھر اُس چوری بردار نے جھک کر ایک بڑی گندی گالی