سیر روحانی — Page 403
۴۰۳ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کے قائل نہیں ، ساری طرف سے انہیں یہی آوازیں آتی ہیں کہ نَعُوذُ بِالله قرآن جھوٹا ہے ، اسلام جھوٹا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹے ہیں پس ذہنی لحاظ سے جو اطمینان کی کیفیت آپ لوگوں کو میٹر ہے وہ ان مبلغوں کو میتر نہیں۔پس اُن کا حق ہے کہ آپ لوگ انہیں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں میں ان کی غفلتوں کا انکار نہیں کرتا، لیکن اُن کی قربانیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔بعض دفعہ ان کے جانے کے بعد اُن کے گھروں میں بچے پیدا ہوئے ہیں اور وہ بڑے ہو کر اپنی ماؤں سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے ابا کی شکل کیسی ہے؟ اتنی بڑی قربانی کے بعد آپ لوگ خود ہی غور کریں کہ اُنکا ہم پر کتنا بڑا حق ہے پس چاہئے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں کہ وہ ہر جگہ اسلام کی اشاعت کے راستے کھولے اور اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے۔اس طرح ہماری جماعت کے باقی افراد کے قلوب کو بھی اس کام کی اہمیت سمجھنے کیلئے کھول دے اور تبلیغ کے متعلق اُن کے اندر ایک نئی زندگی اور بیداری پیدا فرمائے۔اب دنیا پر ایسا وقت آچکا ہے کہ ہماری جماعت کے ایک ایک فرد کو بیدار ہو جانا چاہئے اور ایسی کوشش کرنی چاہئے کہ لاکھوں لاکھ لوگ اسلام میں داخل ہونے شروع ہو جائیں اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے دوستوں کو تبلیغ کا ایسا جوش عطا فرمائے جو کبھی میٹنے والا نہ ہو اور ایسا جنون بخشے جو کبھی دینے والا نہ ہو اور انہیں جس کے نتیجہ میں فوج در فوج لوگ اسلام اور احمدیت میں داخل ہونے شروع ہو جائیں۔دُعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ تمہیں اپنا قرب نصیب کرے اسی طرح ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اپنا قرب نصیب فرمائے کیونکہ یہی ایک غرض ہے جس کے لئے ہم جد و جہد کر رہے ہیں اگر ہمیں ذاتی طور پر خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں تو ہمیں اس سے کیا کہ اس زمانہ میں اُس نے اپنے قُرب کے دروازے کھول دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے خواہ کتنا بڑا مسیح اور مہدی ہمارے لئے بھیج دیا ہو، خواہ کتنے بڑے مدارج کے دروازے اُس نے ہمارے لئے کھول دیئے ہوں اگر ہم خود ان دروازوں کے اندر داخل نہیں ہوئے تو ہماری کیا زندگی ہے۔اگر واقع میں اُس نے اپنے قرب کے دروازے کھول دیئے ہیں اور اپنی برکتیں نازل کر دی ہیں تو ہماری اِس سے زیادہ اور کیا بدقسمتی ہوگی کہ دروازے تو گھلے ہوں مگر ہم اس کے قرب سے محروم رہیں۔پس دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کا عشق ہمارے دلوں میں اتنا پیدا ہو کہ