سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 900

سیر روحانی — Page 385

۳۸۵ ہدایت پا جاؤ گے۔پس ستارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةِ الْكَوَاكِب یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو سماء دنیا ہے اس کی حفاظت کے لئے ہم نے کو اکب مقرر کر دیئے ہیں۔اگر کوئی شخص اس کے لائے ہوئے قانون کو بگاڑنے کی کوشش کرے گا تو یہ ستارے اس پر ٹوٹ پڑیں گے اور اس کے ہاتھوں کوشل کر دیں گے۔چنانچہ دیکھ لو قرآن کریم کے خلاف دشمنانِ اسلام نے کس قدر منصوبے کئے اور کس طرح اسلام کو مٹانے کے لئے انہوں نے اپنی کوششیں صرف کیں مگر پھر کس طرح صحابہ کرام نے اس دین کی حفاظت کی اور اپنی جانیں قربان کر کے دنیا میں اس کو قائم کیا۔مگر فرماتا ہے کہ ایک زمانہ ایسا بھی آئیگا جب مسلمانوں میں غفلت اور سستی پیدا ہو جائے گی اور لوگ پھر اس دین کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے۔جب دنیا میں وہ وقت آئے گا کہ مسلمان سو جائے گا ، صحابہ کرام فوت ہو جائیں گے اور اسلام کو مٹانے والے لوگ پیدا ہو جائیں گے فَاتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِب تو اُس وقت خدا تعالیٰ ایک شہاب پیدا کر دیگا جو آسمان سے گرے گا اور ایسے لوگوں کو کچل کر رکھ دے گا یعنی مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام ) کا ظہور ہوگا اور اسلام کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔شی حکومتوں کی طرف سے تعلیم کا انتظام (19)پھر دنیا میں جوحکومتیں قائم ہوتی ہیں وہ اس بات کی کوشش کیا کرتی ہیں کہ مدر سے جاری کریں، سکول اور کالج کھولیں اور رعایا کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام کریں۔اور تو اور معمولی معمولی ریاستوں میں بھی لوگوں کی تعلیم کا خیال رکھا جاتا ہے اور بعض دفعہ ان کی طرف سے ایسا اعلان سننے میں آجاتا ہے کہ ہم اپنی رعایا کے بڑے خیر خواہ ہیں ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ریاست میں ایک مڈل سکول جاری کیا جائے مگر اسلام جس حکومت کو قائم کرتا ہے اس کا رنگ بالکل اور ہے اور اس کی تعلیم کا دستور بالکل نرالا ہے۔سکول میں آخر وہی جائے گا جو فیس دے سکتا ہے، جو کتابیں خرید سکتا ہے، جو تعلیمی اخراجات کو برداشت کر سکتا ہے، جو مضبوط قومی اور اچھا دماغ رکھتا ہے مگر اس دربار عام سے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم علوم روحانیہ کی جو یو نیورسٹی قائم کر رہے ہیں اس کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے تمہیں گھر سے نکلنے کی بھی ضرورت نہیں ،تمہیں چار پائی سے بھی اُٹھنے کی ضرورت نہیں، تمہیں ہاتھ ہلانے کی بھی ضرورت نہیں بلکہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ٣٠