سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 900

سیر روحانی — Page 372

تمہیں زمین اور مال ملے گا اور ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔مگر یہاں ایک عجیب منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ خدائی دیوانِ عام میں بادشاہ یہ اعلان کرتا نظر آتا ہے کہ اے لوگو اگر تم ہمارے قانون کی پابندی نہیں کرو گے تب بھی تم حکومت کے منافع سے محروم نہیں کئے جاؤ گے فرماتا ب كُلًّا تُمِد هَؤُلاءِ وَ هَؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَ مَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ ہے مَحْظُورًا كا یعنی تم اگر کا فر بھی ہو گئے تب بھی ہم تمہیں اپنے رزق سے محروم نہیں کریں گے اور تمہاری کوششوں کے نتائج پیدا کرتے چلے جائیں گے۔یہ کتنا عظیم الشان فرق ہے جو دُنیوی حکومتوں اور الہی حکومت میں نظر آتا ہے۔دُنیوی حکومتیں اپنے قانون کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو سزائیں دیتی ہیں اور انہیں جیل خانوں میں بند کر دیتی ہیں مگر خدائی گورنمنٹ یہ اعلان کرتی ہے کہ اگر تم ہمارے قانون کے ماننے سے انکار بھی کرو گے تب بھی ہم تمہیں رزق دیتے چلے جائیں گے اور تمہیں ان فوائد سے محروم نہیں کریں گے جو ہماری حکومت سے سب لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں۔اور اگر تم ہمارے قوانین کو تسلیم کرو گے تو تم بادشاہ کے محبوب بن جاؤ گے فرماتا ہے قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ اے ہمارے رسول تو لوگوں میں یہ اعلان کر دے کہ میں تو اس قرآن پر عمل کر کے اور اس کی تعلیم کو مان کر خدا تعالیٰ کا پیارا بن گیا ہوں اگر تم بھی چاہتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے محبوب بنو تو تم میرے نقشِ قدم پر چل پڑو خدا تعالیٰ تم سے بھی محبت کرنے لگ جائے گا اور تمہیں بھی اپنا محبوب بنالے گا۔دنیوی بادشاہوں کا طریق عمل دنیوی بادشاہ جب کسی قانون کا اعلان کرتے ہیں تو اس قانون کی فرمانبرداری کرنے والوں کو کبھی کوئی انعام نہیں ملتا کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کسی شخص کو اس لئے انعام ملا ہو کہ اُس نے چوری نہیں کی ، یا کسی شخص کو اس بات پر انعام ملا ہو کہ وہ سڑک کے بائیں طرف اپنی موٹر چلایا کرتا تھا ، ہاں یہ نظارہ دیکھنے میں ضرور آتا ہے کہ کسی کو ذیلدار بنا دیا گیا محض اس لئے کہ جب ڈپٹی صاحب دورے پر آتے ہیں تو وہ لوگوں کی مُرغیاں پھر اچھرا کر انہیں کھلاتا ہے۔پھر جو خطاب ملتے ہیں اُن کا حقیقت کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا خطاب ملتا ہے خان بہادر اور خان بہادر صاحب کی اپنی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر چوہا بھی چیں کرے تو اُن کی جان نکل جاتی ہے۔گو یا خطاب ملتے ہیں تو جھوٹے اور خطاب ملتے ہیں تو انصاف کے خلاف۔نہ خطاب کا حقیقت کے ساتھ