سیر روحانی — Page 360
کو پیش نہیں کیا ، بلکہ صرف تقسیم بنگال کے منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔مگر قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ اعلان فرماتا ہے کہ ہم تمہارے سامنے ایک ٹکڑا پیش نہیں کرتے بلکہ کامل شریعت پیش کرتے ہیں۔ایک ٹکڑا بعض دفعہ انسان بھی اچھے سے اچھا بنا سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ہزار یا دو ہزار سال تک قائم رہے۔سوال سارے قانون کا ہے کہ وہ شروع سے لیکر آخر تک مکمل ہو اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو سکتی ہو۔یہ کمال کسی اور کلام کو حاصل نہیں۔پس فرماتا ہے کہ ہم جس قانون کو پیش کرتے ہیں :- اوّل وہ اَحْسَنَ الْحَدِيث ہے یعنی اس میں بہتر سے بہتر اور پختہ سے پختہ باتیں بیان کی گئی ہیں اور وہ ایک خوبصورت اور بے عیب قانون ہے۔دوم وہ کوئی ایک ٹکڑ انہیں بلکہ تمام قسم کے قانونوں پر حاوی ہے۔انگلستان میں چند بہائی عورتوں سے گفتگو میں جب انگلستان گیا تو وہاں ایک دن کچھ بہائی عورتیں مجھ سے ملنے کے لئے آئیں۔بہائی لوگ بہاء اللہ کو خدا سمجھتے ہیں اور قرآن کریم کو منسوخ قرار دیتے ہیں مگر مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ وہ ہماری دشمنی کی وجہ سے بہائیوں کو تو اچھا سمجھتے ہیں اور ہمارے سلسلہ کے خلاف شور مچاتے رہتے ہیں۔کراچی کے بعض اخبارات میں صفحوں کے صفحے بہاء اللہ کی تعریف میں شائع کئے جاتے ہیں حالانکہ وہ خدائی کا دعویدار تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اس کا یہ عقیدہ تھا کہ آپ کی حکومت ختم ہو چکی ہے اور اب نئی شریعت کی دنیا کو ضرورت ہے۔بہر حال وہ عورتیں مجھ سے ملنے کے لئے آئیں ان عورتوں میں سے ایک تو شنگھائی بنک کے مینیجنگ ڈائر یکٹر کی بیوی تھی دوسری امریکہ کی رہنے والی تھی اور تیسری ایک احمدی بیرسٹر کی بیوی تھی جو ایرانی اور بہائی تھی۔ان کے ساتھ عبداللہ کو کم تھے جو انگلستان کے سب سے پہلے نو مسلم تھے اور جنہیں لڑکی نے شیخ الاسلام کا خطاب دیا تھا۔ان عورتوں نے آتے ہی مجھ سے سوال کیا کہ آپ بہاء اللہ کو کیوں نہیں مانتے ؟ میں نے کہا اس لئے نہیں مانتا کہ میں قرآن کریم کو مانتا ہوں۔وہ کہنے لگیں آپ قرآن کو کیوں مانتے ہیں کیا یہ کتاب منسوخ نہیں ہو سکتی ؟ میں نے کہا یہ تو بحث ہی نہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں کئی چیزیں ہو سکتی ہیں مگر ہوتی نہیں۔میں نے کہا تم مرسکتی ہو یا نہیں ؟ اگر مر سکتی ہو تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ تم مر چکی ہو تم نے یقیناً ایک دن مرنا ہے مگر اس وقت یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تم مرچکی ہو۔پس یہ سوال جانے دو کہ کوئی کتاب منسوخ ہو سکتی ہے یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا اس