سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 900

سیر روحانی — Page 15

۱۵ کھوپڑیوں اور جسم کی ہڈیوں کا اختلاف اس امر کا یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ انسان ارتقائی قانون کے ماتحت بنا ہے یکدم اپنی موجودہ حالت کو نہیں پہنچا۔دوسری دلیل اس فلسفہ کے معتقد اس ارتقاء کی یہ دیتے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں جب جنین کی ترقی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس جنین کو اپنی ابتدائی حالتوں میں مختلف قسم کے جانوروں سے مشابہت ہوتی ہے۔کبھی وہ جنین خر گوش سے مشابہ ہوتا ہے۔کبھی مچھلی سے مشابہ ہوتا ہے اور کبھی کسی اور جانور سے۔یہ رحم مادر میں بچے کی پیدائش کی مختلف کیفیات در اصل ابتدائے خلق کی ہی کیفیات ہیں۔یعنی پچھلے زمانہ میں جن جن جانوروں کی شکل میں سے انسان گزرا ہے ، ان ساری شکلوں میں سے ایک بچے کو رحم مادر میں سے گزرنا پڑتا ہے۔تیسری دلیل اس ارتقاء کی یہ دی جاتی ہے کہ انسان اور دوسرے جانوروں میں ایسی کئی مشابہتیں پائی جاتی ہیں جو اس امر کو ثابت کرتی ہیں کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور انسان کو جسم اپنی منفردانہ حیثیت میں نہیں ملا بلکہ جانوروں کے جسم سے ترقی کر کے اُسے ایک اور جسم حاصل ہوا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس امر کے ثبوت کے لئے گوریلا وغیرہ قسم کے بندروں کو دیکھ لیا جائے اُن کی انسان سے اتنی شدید مشابہت ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ الگ بنے ہیں اور یہ الگ، گویا ارتقاء کی تیسری دلیل وہ مشابہتیں دیتے ہیں جو انسان کو بعض دوسرے جانوروں سے اور دوسرے جانوروں کو آپس میں یا اپنے سے نیچے کے جانوروں سے ہیں۔دوسرا دعوئی ڈارون نے یہ کیا تھا کہ انسان اور بندر کا ارتقاء ایک جانور سے ہوا ہے جو اب مفقود ہے۔اس کے ثبوت میں وہ یہ امر پیش کرتا ہے کہ بندروں کی بعض اقسام کو انسان سے انتہائی مشابہت ہے مگر وہ کہتا ہے کہ درمیان میں ایک کڑی غائب ہوگئی ہے اور اس مفقودکٹری کا ثبوت وہ فاصلہ ہے جو طبعی طور پر بندروں کی موجودہ قسم اور انسان میں ، اور بندروں اور ان سے ادنیٰ قسم کے جانوروں میں نہ پایا جانا چاہئے تھا مگر چونکہ ہمیں ایک طرف بندروں اور انسان میں انتہائی مشابہت نظر آتی ہے اور دوسری طرف بندروں اور ان سے نچلے درجہ کے جانوروں میں ایک فاصلہ نظر آتا ہے جو طبعی طور پر نہیں پایا جانا چاہیئے تھا اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ درمیان کی میں سے کوئی کڑی غائب ہوگئی ہے جس سے انسان اور بندر نے ترقی کر کے اپنی موجودہ شکل کو اختیار کیا تھی یہ زنجیر مکمل نہیں بنتی۔ہیکل کا نظریہ انسانی پیدائش کے متعلق ہیکل کے ایک اور مفکر ہے وہ ڈارون کے اس فلسفہ پر غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا