سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 900

سیر روحانی — Page 8

۱۲۔بارھویں میں نے کتب خانے دیکھے ہیں جہاں پرانی کتب کے تراجم ہوتے تھے اور پرانے علوم کو محفوظ کیا جاتا تھا۔۱۳۔تیرھویں میں نے بازار دیکھے ہیں جہاں ہر چیز جس کی انسان کو ضرورت ہو فر وخت ہوتی تھی۔۱۴۔چودھویں میں نے جنتر منتر دیکھا ہے جو ستاروں کی گردشیں معلوم کرتا تھا اور حساب سنین کو بتا تا تھا یا آئندہ کے تغیر پر روشنی ڈالتا تھا۔۱۵۔پندرھویں میں نے ایک وسیع سمندر بھی دیکھا ہے جس کا کنارہ تو ہے مگر اُس کا اندازہ لگانا انسانی فطرت کی طاقت سے بالا ہے اور جہاز میں بیٹھنے والا اُسے بے کنا ر ہی سمجھتا ہے جس کے راز دریافت کرنے اور اُس سے فائدہ اُٹھانے کے لئے ہزاروں بڑے بڑے جہاز جو بعض دفعہ ایک ایک گاؤں کے برابر ہوتے ہیں اور دو دو ہزار آدمی اس میں بیک وقت بیٹھ جاتے ہیں ہر وقت اُس میں چلتے رہتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک وسیع شہر میں ایک چیونٹی پھر رہی ہے۔۱۶۔سولھویں میں نے آثار قدیمہ کے محکموں کے وہ کمرے دیکھے ہیں جہاں قدیم چیزیں انہوں نے جمع کر رکھی ہیں، کہیں زمین کھود کر انہوں نے سکے نکالے، کہیں زمین کھود کر انہوں نے پرانے کاغذات دستیاب کئے اور کہیں زمین کھود کر انہوں نے پرانے برتن نکالے اور اس طرح پرانے زمانہ کے تمدن اور تہذیب کا نقشہ انہوں نے ان چیزوں کے ذریعہ ہمارے سامنے رکھا۔یہ تمام چیزیں ایک ترتیب کے ساتھ رکھی تھیں۔پس میں نے آثار قدیمہ کی ان محنتوں کو بھی دیکھا اور پرانے آثار کو نکال کر دنیا کے سامنے پیش کرنے پر میرے دل نے ان کے کام پر آفرین کہی۔ایک نئی دنیا جو میری آنکھوں کے سامنے آئی یہ امور تفصیلاً یا اجمالاً اُس وقت میرے ذہن میں آئے اور پھر میرے دل نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا یہ تیری زندگی کا بہترین تجربہ ہے، کیا ان سے بڑھ کر ایسی ہی چیزیں تو نے نہیں دیکھیں ، کیا ان سے بڑھ کر مفید کام تو نے نہیں دیکھے اور کیا ان سے بڑھ کر عبرت کے نظارے تو نے نہیں دیکھے ؟ اور اس سوال کے پیدا ہوتے ہی وہ تمام نظارے جو میری آنکھوں کے سامنے تھے غائب ہو گئے اور ایک اور نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آ گیا اور ایک نئی دنیا میری آنکھوں کے سامنے آہستہ آہستہ گزرنے لگ گئی۔میں اس نئی دنیا کے آثارِ قدیمہ کو ی