سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 900

سیر روحانی — Page 7

۳۔تیسرے میں نے مساجد دیکھی ہیں ، نہایت خوبصورت مساجد، چھوٹی بھی اور بڑی بھی جو ہزاروں آدمیوں کو خدا تعالیٰ کے ذکر کے لئے جمع کرنے کے لئے کہیں سُرخ اور کہیں سفید پتھر سے تیار کی گئی ہیں۔۴۔چوتھے میں نے ایک وسیع اور بلند مینار دیکھا ہے، آسمان سے باتیں کرتا ہو اجس کی بلندی کو دیکھ کر انسانی نظر مرعوب ہو جاتی ہے۔۵۔پانچویں میں نے نوبت خانے دیکھے ہیں جہاں موسیقی سے لوگوں کے جذبات کو ابھارا جاتا تھا، جہاں طبل اور نفیریاں بجتیں اور سپاہیوں کے دل اُچھلنے لگتے اور وہ جنگ کو جنگ نہیں بلکہ بچوں کا کھیل سمجھتے ، اُن کے گھوڑے ہنہنانے لگتے اور اُن کا خون گرم ہو کر جسم میں دوڑنے لگتا اور جہاں سے بادشاہ کے اعلان کو گر جتے ہوئے بادلوں کی طرح نو بتوں کے ذریعہ دنیا کو سُنایا جاتا تھا۔۔چھٹے میں نے باغات دیکھے ہیں جو کسی وقت اپنی سرسبزی و شادابی کی وجہ سے جنت نگاہ تھے اور آنکھوں کو سرور اور دلوں کو لذت بخشا کرتے تھے۔ے۔ساتویں میں نے کہا۔میں نے دیوانِ عام دیکھے ہیں جہاں بادشاہ اپنے انصاف اور عدل سے اپنی رعایا کی تکلیفوں کو دُور کیا کرتے تھے اور آتے ہی اعلان کر دیا کرتے تھے کہ جس شخص پر کوئی ظلم ہو ا ہو وہ ہمارے پاس فور آشکایت کرے جس پر امیر وغریب مٹی کہ بھنگی اور چمار بھی آتا اور بادشاہ کے سامنے فریاد کرتا۔۔آٹھویں میں نے دیوان خاص دیکھتے ہیں جہاں بادشاہ اپنے خاص درباریوں سے راز و نیاز کی باتیں کیا کرتے تھے۔۹۔نویں میں نے نہریں دیکھی ہیں جو ادھر سے اُدھر پانی پہنچایا کرتی تھیں اور پیاسے درختوں کو نئی زندگی بخشتی تھیں اور جن سے سیراب ہو کر درخت لہرا لہرا کر اپنی بہار دکھایا کرتے تھے۔۱۰۔دسویں میں نے لنگر خانے دیکھے ہیں جن سے بادشاہوں کے ہم مذہبوں اور اُس کے مذہبی مخالفوں کو بھی الگ الگ کھانے تقسیم ہوا کرتے تھے۔مسلمانوں کے الگ لنگر خانے ہوا کرتے تھے اور غیر مذاہب والوں کے الگ۔مسلمانوں کے لنگر خانوں میں مسلمان تقسیم کرنے والے ہوتے اور غیر مذاہب کے لنگر خانوں میں غیر مسلم تقسیم کرنے پر مقرر ہوتے۔۱۱۔گیارہویں میں نے دفتر دیکھے ہیں جہاں تمام ریکارڈ رکھے جاتے تھے اور ہر ضروری امر کو محفوظ رکھا جاتا تھا۔