سیر روحانی — Page 264
۲۶۴ پچاس ہزار روپے کا مال تھا۔یہی حال لوگوں کا ہے کہ اُس پانی کی قدر کریں گے جو سٹر جاتا اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ناکارہ ہو جاتا ہے مگر جو پانی ان کے اور اُن کی آئندہ نسلوں کے کام آنے والا ہے اور جو نہ صرف اس زندگی میں بلکہ اگلے جہان میں بھی کام آتا اور انسان کی کا یا پلٹ دیتا ہے اُس کو ر ڈ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس کو نہیں لیتے۔تو فرماتا ہے اکثر لوگ کُفر ہی کرتے ہیں حالانکہ اگر ہم چاہتے تو ساری دنیا میں ہی نذیر بھیجتے۔یعنی اگر ہم لوگوں پر جلدی حجت تمام کرنا چاہتے تو بجائے اس کے کہ ایک رسول بھیجتے اور اس کی تعلیم آہستہ آہستہ پھیلتی ، ہر بستی میں ایک ایک نذیر بھیج دیتے، مگر ہم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ اس لئے کہ اگر سب لوگ ایک دم گفر کرتے تو دنیا کی تمام بستیوں پر یکدم عذاب آ جاتا اور سب لوگ ہلاک ہو جاتے مگر اب ایسا نہیں ہوتا بلکہ اب پہلے عرب پر اتمام حجت ہوتی ہے اور اس پر عذاب آتا ہے۔پھر کچھ اور عرصہ گزرتا ہے تو ایران پر اتمام حجت کے بعد عذاب آ جاتا ہے۔اگر ہر بستی اور ہر گاؤں میں اللہ تعالیٰ کے نبی مبعوث ہوتے ، تو ہر بستی اور ہر گاؤں پر وہ عذاب نازل ہوتا جواب براہ راست ایک حصہ زمین کے مخالفوں پر نازل ہوتا ہے۔پس تو اُن کافروں کی باتیں مت مان ، بلکہ قرآن کریم کے ذریعہ سے سب دنیا کے ساتھ وہ جہاد کر جو سب سے بڑا جہاد ہے یعنی تبلیغ کا جہاد۔جس کے پاس جانے سے بھی آجکل کے مسلمان کا دم گھٹتا ہے ( وہ اس سے تو اس بہانہ سے بھاگتا ہے کہ اصل جہاد تلوار کا ہے اور تلوار کے جہاد سے اس لئے بھاگتا ہے کہ دشمن طاقتور ہے۔مولوی فتوی دیتا ہے کہ اے عام مسلمانو ! بڑھو اور لڑو۔اور عام مسلمان کہتے ہیں کہ علماء ! آگے چلو کہ تم ہمارے لیڈر ہو اور پھر دونوں اپنے گھروں کی طرف بھاگتے ہیں ) پس دنیا کے مینا بازار میں تو لوہے کی تلوار میں ملا کرتی تھیں جنہیں کچھ عرصہ کے بعد زنگ لگ جاتا تھا اور جو ہمیشہ لڑائی میں کام نہیں آ سکتی تھیں ، بلکہ بسا اوقات لڑتے لڑتے ٹوٹ جاتی تھیں ، مگر خدا نے ہمیں وہ تلوار دی ہے جسے کبھی زنگ نہیں لگتا اور جو کسی لڑائی میں بھی نہیں ٹوٹ سکتی ، تیرہ سو سال گزر گئے اور دنیا کی سخت سے سخت قوموں نے چاہا کہ وہ اس تلوار کو توڑ دیں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور اسے ہمیشہ کے لئے ناکارہ بنا دیں مگر دُنیا جانتی ہے کہ جو قوم اس کو توڑنے کے لئے آگے بڑھی وہ خود ٹوٹ گئی مگر یہ تلوار اُن سے نہ ٹوٹ سکی۔یہ وہ قرآن ہے جو خدا نے ہم کو دیا ہے اور جہاد بالقرآن سب سے بڑا جہاد ہے یہ وہ تلوار ہے جس سے ہم ساری دنیا کو فتح