سیر روحانی — Page 216
۲۱۶ جماعت کو نصیحت یہ وہ مقبرے ہیں جو میں نے دیکھے اور خوش قسمت ہے وہ جو ان مقبروں میں اچھی جگہ پائے ، مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت کے بعض دوستوں نے بھی اس حقیقت کو نہیں سمجھا۔میں ایک دن بچوں کے قبرستان میں گیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ قریباً ہر قبر پر بڑے بڑے کتبے لگے ہوئے تھے حالانکہ قبریں بالکل سادہ بنانی چاہئیں اور نمود و نمائش پر اپنا روپیہ برباد نہیں کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود عَلَيْهِ السَّلَام کی قبر کو دیکھو وہ کیسی سادہ ہے اسی طرح تمہیں بھی اپنے عزیزوں کی قبروں میں سادگی مد نظر رکھنی چاہئے اور بلا ضرورت اپنے روپیہ کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان کے اندر یہ طبعی خواہش پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کی قبروں کی حفاظت کرے، لیکن تمہارے مرنے کے بعد ان قبروں کی حفاظت کا کون ذمہ دار ہوسکتا ہے۔ممکن ہے کہ بعد میں آنے والے ان قبروں کو اُکھیڑ کر ان میں اپنے مُردے دفن کر دیں اور تمہارے مُردوں کا کسی کو نشان تک بھی نہ ملے۔لیکن خدا تعالیٰ کے ہاں جو مقبرہ بنتا ہے اسے کوئی شخص اُکھیڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔پس اپنی قبریں اُسی جگہ بناؤ جہاں خدا تعالیٰ تمہاری قبروں کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوگا اور اگر دنیا میں اپنی قبریں کسی اچھی جگہ بنانے کی خواہش رکھتے ہو تو پھر بہشتی مقبرہ میں بناؤ۔اور یاد رکھو کہ اگر وصیت کے بعد تم کسی مقام پر قتل کر دیئے جاتے ہو یا کسی چھت کے نیچے دب کر ہلاک ہو جاتے ہو یا آگ میں گر کر جل جاتے ہو یا دریا میں غرق ہو جاتے ہو یا شیر کا شکار بن جاتے ہو اور اس طرح بہشتی مقبرہ میں تمہارا جسم دفن نہیں ہو سکتا تو مت سمجھو کہ تمہارا خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔جب کوئی شخص شیر کے پیٹ میں جا رہا ہو گا تو اُس شیر کے پیچھے جبریل ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوگا کہ کب اس کی روح نکلتی ہے کہ میں اسے اپنی آغوش میں لے لوں۔اسی طرح جب کوئی شخص آگ میں جل رہا ہو گا تو گو لوگوں کو یہی نظر آ رہا ہوگا کہ وہ جل کر فنا ہو گیا مگر خدا کے دربار میں وہ اُس کی محبت کی آگ میں جل رہا ہوگا اور خدا کے فرشتے اس کی عزت کر رہے ہو نگے۔پس دنیا کے مقبروں پر اپنا روپیہ ضائع مت کرو، بلکہ اپنی قبریں بہشتی مقبرہ میں بناؤ۔اور یا پھر اُس بہشتی مقبرہ میں بناؤ جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں، جہاں نوح“ بھی ہیں، جہاں ابراہیم بھی ہیں، جہاں موسیٰ بھی ہیں، جہاں عیسیٰ بھی ہیں اور جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہیں۔اسی طرح تمہارے آباء واجداد بھی وہیں ہیں۔پس کوشش کرو کہ