سیر روحانی — Page 215
۲۱۵ فرمایا وہ جو اگلے جہان کا مقبرہ ہے اس میں ہر شخص اپنے اپنے درجہ کے مطابق خدا تعالیٰ کا انعام پائے گا ، مگر رشتہ داروں کے لحاظ سے ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ جس کے ایسے رشتہ دار ہونگے جن کے ساتھ وہ محبت سے رہ سکتا ہو اور جن کے عقائد اور خیالات سے وہ متفق ہو ایسے سب رشتہ داروں کو اکٹھا کر دیا جائے گا خواہ باپ ہوں ، بیٹے ہوں، بیویاں ہوں۔اور فرشتے اُن پر چاروں طرف سے داخل ہوں گے اور کہیں گے السَّلامُ عَلَيْكُمْ ملائکہ کو تمام رشتہ داروں کی عزت کرنے کا حکم امیروں کے گھروں میں اگر ان کے غریب رشتہ دار آ جائیں تو وہ اُن کے ساتھ نہایت حقارت سے پیش آتے ہیں اور وہ رشتہ دار بھی ان کے پاس رہنے میں شرم محسوس کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لطیفہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک ہندو نے اپنے ایک بیٹے کو نہایت اعلیٰ تعلیم دلائی اور اپنی زمین اور جائداد وغیرہ فروخت کر کے اسے پڑھایا۔یہاں تک کہ وہ ڈپٹی بن گیا اس زمانہ میں ڈپٹی بڑا عہدہ تھا۔ایک دن وہ امراء ورؤساء کے ساتھ اپنے مکان کے صحن میں بیٹھا تھا کرسیاں بچھی ہوئی تھیں کہ اتفاقاً اُس کا باپ ملنے کے لئے آ گیا۔اس نے ایک میلی کچیلی دھوتی پہنچی ہوئی تھی ، وہ آیا اور بے تکلفی سے ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔اس کے گندے اور غلیظ کپڑے دیکھ کر جوای، اے سی اور دوسرے معززین بیٹھے ہوئے تھے انہیں بڑی تکلیف محسوس ہوئی مگر انہوں نے سمجھا کہ مالک مکان اسے خود ہی اُٹھا دیگا ، ہمیں کہنے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن مالک مکان نے کچھ نہ کہا آخر انہوں نے ڈپٹی صاحب سے پوچھا کہ ان کی کیا تعریف ہے؟ اس پر وہ لڑکا جسے اُس کے باپ نے فاقے برداشت کر کر کے تعلیم دلائی تھی بولا کہ یہ ہمارے پہلیے ہیں، یعنی ہمارے گھر کے نوکر ہیں۔اس ر باپ کو سخت غصہ آیا اور وہ کہنے لگا میں ان کا ٹہلیا تو نہیں ان کی والدہ کا ضرور ہوں۔اس فقرہ سے سب لوگ سمجھ گئے کہ یہ شخص ڈپٹی صاحب کا والد ہے اور انہوں نے ان کو سخت ملامت کی کہ آپ بڑے نالائق ہیں کہ اس طرح اپنے باپ کی ہتک کرتے ہیں۔تو دنیا میں ہم دیکھتے تھے ہیں کہ غریب رشتہ دار جب اپنے کسی امیر رشتہ دار کے ہاں جاتے ہیں تو ان کی عزت میں فرق آجاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم فرشتوں کو حکم دیں گے کہ دیکھو سَلَامٌ عَلَيْكَ نہ کہنا بلکہ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ کہنا اور ان سب رشتہ داروں کی عزت کرنا جو اس کے پاس جمع کئے گئے ہوں گے پس سَلَامٌ عَلَيْكُمُ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت کو بھی قائم کر دیا۔