سیر روحانی — Page 189
۱۸۹ حضرت خواجہ میر درد صاحب اور حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے ہوتے اور ان سے اُتر کر چھوٹے چھوٹے مقبرے اکبر ، ہمایوں، شاہجہان ، جہانگیر اور دوسرے غلاموں ، خلجیوں، تغلقوں، لودھیوں ، مغلوں اور سُوریوں کے ہوتے اور کتوں کی ہڈیاں بجائے مقبروں میں ہونے کے میلے کے ڈھیروں پر پڑی ہوئی ہوتیں۔ہم لکھنؤ تو نہیں گئے مگر میں نے سُنا ہے کہ لکھنؤ میں بٹیروں کے بھی مقبرے ہیں۔کسی نواب کا بٹیرہ مر جاتا تو لوگ کہنا شروع کر دیتے کہ سُبْحَانَ اللهِ اس بٹیرے کا کیا کہنا ہے وہ تو ہر وقت ذکر الہی میں مشغول رہتا تھا اور نواب صاحب بھی کہتے کہ تم سچ کہتے ہو ولی اللہ جو تھا، آخر اُس کا مقبرہ بنا دیا جاتا۔اُن لوگوں کا تصور جن کی قبریں اکھیڑ دی گئیں پھر میں نے سوچا یہ تو مقبرہ والوں سے بے انصافی ہو رہی تھی وہ ہزاروں ہزار یا جنہیں قبریں بھی نصیب نہیں ہوئیں ! لوگ جن کے مقبرے بنے ہی نہیں ان کا حال ہمیں کس طرح معلوم ہو سکتا ہے، آخر ان کا کوئی نشان بھی تو دنیا میں ہونا چاہئے مگر ہمیں دنیا میں ان کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔پھر جب میں نے دتی میں پرانی آبادیوں کو گھرتے ہوئے دیکھا اور قبرستانوں میں عمارتوں کو بنتے دیکھا تو میں نے خیال کیا کہ افسوس ان جگہوں کے مکینوں کے لئے مقبرے تو الگ رہے قبریں تک بھی نہیں رہیں۔ان کی ہڈیاں نکال کر پھینک دی گئی ہیں اور ان کی قبریں کھود کر وہاں ہے سیمنٹ کی بلند اور عالیشان عمارتیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔پس میں نے کہا ایک تو وہ ہیں جن کے مقبرے بنے مگر غلط اصول کے مطابق اور ایک یہ ہیں کہ ان کی صرف قبریں بنیں مگر لوگوں نے ان کی قبروں کا رہنا بھی پسند نہ کیا اور انہیں کھود کر ہڈیوں کو پرے پھینک دیا۔پھر میں نے خیال کیا کہ گو ان کی قبریں آج اُکھیڑ دی گئی ہیں مگر چلو دو چار سو سال تو انہیں قبروں میں سونے کی کا موقع مل گیا ، لیکن وہ لاکھوں اور کروڑوں ہندو جو مذہبی تعلیم کے ماتحت جلا دیئے جاتے ہیں اُن کو تو یہ قبریں بھی نصیب نہ ہوئیں۔پھر مجھے پارسیوں کا خیال آیا کہ وہ لاش پر دہی لگا کر چیلوں کے آگے رکھ دیتے ہیں اور وہ نوچ نوچ کر اُسے کھا جاتی ہیں یا کتوں کے آگے اُسے ڈال دیتے ہیں اور وہ کھا جاتے ہیں۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ افسوس ! انہیں تو قبر بھی نصیب نہ ہوئی۔پھر مجھے ان لوگوں کا خیال آیا جو جل کر مر جاتے ہیں اور جن کی راکھ عمارت کی مٹی سے مل جاتی ہے۔مجھے ان لوگوں کا خیال آیا جو ڈوب کر مر جاتے ہیں اور جنہیں مچھلیاں کھا