سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 900

سیر روحانی — Page 188

۱۸۸ سے ظاہر ہوتی ہیں۔پس میں نے افسوس کیا کہ مقبرہ کی اصل غرض تو یہ ہوتی ہے کہ مرنیوالے کی حقیقی عظمت کا پتہ چلے اور اس کا نشان قائم رہے مگر ان مقبروں سے تو یہ معلوم نہیں ہوتا۔ان سے تو شاہجہان اکبر اور اور نگ زیب سے بڑا شمس الدین تغلق، شیر شاہ سوری سے بڑا، اور وزیر منصور اور عماد الدولہ تمام خلجی تغلقوں اور لودھیوں وغیرہ سے بڑے نظر آتے ہیں ، اور پھر یہ سب کے سب روحانی بادشاہوں سے بڑے دکھائی دیتے ہیں۔آثار قدیمہ سے مرتب کردہ مضحکہ خیز تاریخ میں نے سوچا کہ اگر دنیا سے تاریخ مٹ جائے اور آثارِ قدیمہ سے تاریخ مرتب کی جائے تو تاریخ لکھنے والے یوں لکھیں گے کہ ہندوستان کا سب سے بڑا بادشاہ شاہجہان تھا اس سے اُتر کر جہانگیر پھر اس سے اُتر کر اکبر بادشاہ تھا۔اکبر بادشاہ سے اتر کر عمادالدولہ ( جو محض ایک نواب تھا ) پھر ہمایوں بادشاہ ہوا ان کے بعد منصور بادشاہ ہوئے پھر شمس الدین بادشاہ بنے اس کے بعد بعض گتے ہندوستان کے بادشاہ ہوئے۔ان کے علاوہ ہندوستان کے اندر بعض ادنی درجہ کے اُمراء کا بھی پتہ لگتا ہے۔جیسے خواجہ قطب الدین صاحب اور خواجہ نظام الدین صاحب۔پھر کچھ غلاموں اور امیر نوکروں کے بھی نشان ملتے ہیں جیسے خواجہ باقی باللہ صاحب، شاہ ولی اللہ صاحب ، مرزا مظہر جان جاناں صاحب اور خواجہ میر درد صاحب۔اگر کوئی شخص ایسی تاریخ لکھے اور ہندوستان کی اصل تاریخ دنیا سے مٹ جائے تو اس پر بڑے بڑے ریویو لکھے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ اس شخص نے تحقیق میں کمال کر دیا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ مقبروں کے لحاظ سے وہ نہایت سچی تاریخ ہو گی مگر واقعات کے لحاظ سے وہ اوّل درجہ کی جھوٹی اور مفتر یات سے پُر کتاب ہو گی۔وہ الف لیلہ کا قصہ تو کہلا سکتی ہے مگر کوئی عقلمند انسان اسے تاریخ کی کتاب نہیں کہہ سکتا، لیکن اگر مقبرے کسی کی شان اور کام کو بتانے کے لئے ہوتے ہیں اور اُن سے غرض یہ ہوتی ہے کہ مرنے والے کی حقیقی عظمت کا پتہ چلے اور اس کا نشان دنیا میں قائم رہے تو پھر ہندوستان میں سب سے زیادہ شاندار مقبرے حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی حضرت خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کاکی ، حضرت خواجہ فرید الدین صاحب شکر گنج : رح 21 " حضرت شاہ محمد غوث صاحب، حضرت سید علی ہجویری صاحب، حضرت خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ، حضرت خواجہ باقی باللہ صاحب ، حضرت مرزا مظہر جان جاناں صاحہ