سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 900

سیر روحانی — Page 178

کے گرد یا جوج و ماجوج چکر لگا رہے ہیں جیسا کہ قلعوں کے متعلق قاعدہ ہے کہ جب قلعہ پر حملہ ہو تو لشکر باہر نکل کر چھوٹے چھوٹے قلعے اور چوکیاں بنا کر مدافعت کرتا ہے تا کہ دشمن وہیں حملہ کرتا رہے اور قلعہ کی طرف نہ بڑھ سکے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کے لئے ایک کی اور قلعہ بنا دیا ہے اور اس کے سپر د اس بڑے قلعہ کی حفاظت کا کام کیا ہے اور چونکہ یہ قلعہ بھی دین کی اسی طرح حفاظت کر رہا ہے اس لئے اسے بھی ارضِ حرم کے نام سے موسوم کیا گیا ہے کی چنانچہ اس قلعہ کی تعمیر میں جس نے حصہ لیا وہ خود کہتا ہے :- خدا کا ہم پر بس لطف و کرم ہے وہ نعمت کونسی باقی جو کم ہے زمین قادیاں اب محترم ہے ہجومِ خلق سے ارضِ حرم ہے ظہور عون و نصرت دمبدم ہے صد سے دشمنوں کی پشت خم ہے سنو! اب وقت توحید اتم ہے ستم اب مائلِ ملک عدم ہے خدا نے روک ظلمت کی اُٹھادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْآعَادِي ۱۹ ساکنین ارضِ حرم کے فرائض یہ قلعہ خدا نے خانہ کعبہ کی حفاظت کے لئے قائم کیا ہے ، یہ قلعہ اس لئے قائم ہوا ہے تا کہ دشمن کے حملوں کو وہ اپنے اوپر لے اور اُسے خانہ کعبہ کی طرف ایک قدم بھی بڑھنے نہ دے اور چونکہ یہ قلعہ خانہ کعبہ کی حفاظت کر رہا ہے اس لئے لازماً یہ بھی ارضِ حرم کا جزو ہے اور جو لوگ اس قلعہ کے سپاہیوں کی میں اپنے آپ کو شامل کر رہے ہیں وہ یقیناً ارضِ حرم کے ساکن ہیں اور ان کا فرض ہے کہ وہ دشمن کی گولیاں اپنے سینوں پر کھائیں اور اسے کعبہ کی طرف بڑھنے نہ دیں۔پس اے قادیان کے رہنے والو! اور اے دوسرے احمدی مراکز کے رہنے والو! آج خانہ کعبہ کی حفاظت کے لئے گولیاں کھانا تمہارا فرض ہے تم ان لوگوں میں سے ہو جو بڑے قلعوں کی حفاظت کے لئے باہر کی طرف بٹھا دئیے جاتے ہیں تا کہ وہ دشمن کی مدافعت کریں اور گولیوں کو اپنے اوپر لیں۔پس تم بہادری کے ساتھ اپنے سینوں کو آگے کرو اور دشمن کے ہر حملہ کا پوری شدت کے ساتھ مقابلہ کرو۔طاعون کے طوفانی حملہ میں اس قلعہ کی حفاظت میں تمہیں اس قلعہ کی حفاظت کا بھی ایک واقعہ سنا دیتا ہوں کچھ عرصہ ہوا دنیا پر ایک غنیم نے حملہ کیا وہ قلعہ پر قلعہ توڑتا چلا آیا۔آبادیوں پر آبادیاں اُس نے ہلاک کر دیں اور گاؤں کے بعد گاؤں اُس نے ویران کر دیئے۔اُس وقت اس قلعہ کی تعمیر کرنے والا