سیر روحانی — Page 110
11۔میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ مسجد کی اغراض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کس طرح پوری کیں۔صحابہ کے ذریعہ بنی نوع انسان کے حقوق کی حفاظت اوّل۔غرض مسجد کی یہ ہے کہ للناس ہوتی ہے یعنی اس کے ذریعہ بنی نوع انسان کے حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے اور سب انسانوں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔اس بارہ میں قرآن کریم میں آتا ہے۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ یعنی اے مسلمانو! تم سب اُمتوں سے بہتر ہو۔اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم کسی ایک قوم کے فائدہ کے لئے کھڑے نہیں ہوئے بلکہ تم کالوں کے لئے بھی ہو اور گوروں کے لئے بھی ہو ، مشرقیوں کے لئے بھی ہو اور مغربیوں کے لئے بھی ہو، تمہارا دروازہ سب کے لئے کھلا ہے اور تمہارا فرض ہے کہ تم سب کو آواز دو اور کہو کہ آ جاؤ مشرق والو، آ جاؤ مغرب والو، آ جاؤ شمال والو، آ جاؤ جنوب والو ، آ جاؤ غریبو، آ جاؤ امیرو، آ جاؤ طاقتورو، آ جاؤ کمزور و۔غرض تم سب کو آواز دو کیونکہ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم وہ قوم ہو جو ساری دنیا کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہو۔جس کی طرح وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ وہ پہلا گھر ہے جو لِلنَّاسِ} بنا، اسی طرح انبیاء کی جماعتیں بھی جب کھڑی کی جاتی ہیں تو لِلنَّاسِ کھڑی کی جاتی ہیں۔موسیٰ کے زمانہ میں اُمتِ موسوی کا دروازہ گو صرف بنی اسرائیل کے لئے کھلا تھا مگر دائرہ میں وہاں بھی کامل مساوات تھی لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس دائرہ کو ایسا وسیع کر دیا گیا کہ ساری دنیا کو اس کے اندر شامل کر لیا گیا۔پس فرماتا ہے اے مسلمانو! تم } لوگوں کے فائدہ کے لئے بنائے گئے ہو۔اس کے بعد اس کا ذکر فرماتا ہے کہ مسلمانوں سے لوگوں کو فائدہ کس طرح پہنچے گا فرماتا ہے تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ تم لوگوں کو نیکی کی تعلیم دیتے ہو تمام بنی نوع انسان کو تبلیغ کرتے ہو، انہیں نیک اخلاق سکھاتے ہو، کہتے ہو کہ فلاں فلاں بات پر عمل کرو تا کہ تمہیں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اور تم بدیوں سے لوگوں کو روکتے ہو، وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ اور تم نڈر ہو کر یہ کام کرتے ہو۔یہاں ایمان سے صرف مان لینا مراد نہیں ، کیونکہ آمُر بِالْمَعْرُوفِ اور نَهِی عَنِ الْمُنكَرِ خدا تعالیٰ پر ایمان لائے بغیر نہیں ہوسکتا اور جب ایمان پہلے ہی حاصل تھا تو آخر میں تُؤْمِنُونَ بِاللهِ کہنے کی کیا