سیر روحانی — Page 101
1+1 بِسْمِ الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيم (۲) ( تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۴۰ء بر موقع جلسه سالانه بمقام قادیان) شہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : - (۴) مساجد میں نے اس سفر میں جو چیزیں دیکھی تھیں ان میں سے کچھ مساجد بھی تھیں جو بڑی خوبصورت اور مختلف امتیازات والی تھیں کسی میں کالے پتھر لگے ہوئے تھے ، کسی میں سفید اور کسی میں سُرخ اور بعض میں اگر سادگی تھی تو وہ سادگی اپنی ذات میں اتنی خوبصورت تھی کہ دل کو لبھا لیتی تھی۔اسی طرح بعض مساجد اتنی وسیع تھیں کہ ایک ایک لاکھ آدمی ان میں بیک وقت عبادت کر سکتا تھا اور بعض اتنی بلند تھیں کہ انسان اگر اُن کی چھت کو دیکھنے لگے تو اس کی ٹوپی رگر جائے غرض اپنے اپنے رنگ میں ہم میں سے ہر ایک نے اُن مساجد کو دیکھ کر لطف اُٹھایا اور جہاں موقع مل سکا وہاں ہم نے نفل بھی پڑھے۔مساجد کی تعمیر میں نیوں کا تفاوت میں نے جب ان مساجد کو دیکھا تو اپنے دل میں کہا کہ ان خدا کے بندوں نے کیسی کیسی عظیم الشان مساجد بنا کر خدا تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبادت کو دنیا میں قائم کرنے کا اہتمام کیا کی تھا مگر ساتھ ہی میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ مساجد گو بڑی شاندار ہیں اور ان کے بنانے والوں نے ان کے بنانے پر بہت سا وقت اور روپیہ خرچ کیا ہے اور بہت بڑی قربانی سے کام لیا ہے تا ہم نہ معلوم انہوں نے ان مسجدوں کو کس کس نیت سے بنایا۔کسی نے ان کو اچھی نیت سے بنایا ہوگا اور کسی نے بُری نیت سے کسی نے تو اس خیال سے مسجد تعمیر کی ہوگی کہ لوگ کہیں گے یہ مسجد فلاں بادشاہ نے بنائی تھی۔اس ریا کاری کی وجہ سے ممکن ہے وہ اس وقت جہنم میں