سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 900

سیر روحانی — Page 77

کہ کیا تم نہیں دیکھتے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو کس طرح تہہ بہ تہ بنایا ہے اور چاند کو اُس کی - نے نور اور سورج کو اس نے سراج بنایا ہے، سراج اُس دیے کو کہتے ہیں جس میں بتی روشن ہو۔پس سراج کا لفظ استعمال کر کے بھی اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ سورج کے اندر خود ایک آگ ہے جس کی کی وجہ سے اس کی روشنی تمام جہان پر پھیلتی ہے۔موجودہ تحقیق نے بھی یہی ثابت کیا ہے کہ سورج میں ریڈیم کے اجزاء کی وجہ سے ایک جلتی ہوئی آگ ہے اور اسی وجہ سے وہ روشن ہے۔اب دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے صرف سراج کے لفظ میں ہی آج سے تیرہ سو سال پہلے وہ نکتہ بتا دیا تھا جسے تیرھویں صدی ہجری میں یورپین محققین نے دریافت کیا اور بتا دیا تھا کہ سورج کی روشنی ذاتی ہے اور چاند کی طفیلی۔جس طرح دیے کی بتی جلتی ہے اسی طرح سورج میں ایک ایسی آگ ہے جس کی وجہ سے وہ ہر وقت روشن رہتا ہے مگر چاند میں ایسی کوئی روشنی نہیں وہ جو کچھ حاصل کرتا ہے سورج سے حاصل کرتا ہے اسی لئے سورج کو تو سراج کہا مگر چاند کو نور قرار دیا۔(۴) چوتھی بات قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ سورج اور چاند کی بناوٹ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آخر یہ بھی فنا ہو جائیں گے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اللَّهُ الَّذِى رَفَعَ السَّمَواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ۔كُلٌّ يَجْرِى لَاَجَلٍ مُّسَمًّى ٤٠ کہ خدا ہی ہے جس نے آسمانوں کو بغیر کسی ستون کے بلند کیا۔پھر وہ عرش پر جاگزیں ہو گیا اور اس نے سورج اور چاند کو انسانوں کی خدمت کے لئے مقرر کر دیا ، ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرہ میں حرکت کر رہا ہے مگر یہ تمام حرکات لِاَجَلٍ مُّسَمًّی ایک وقت مقررہ تک ہیں ، جب مقررہ وقت ختم ہو گیا تو اس کے بعد ان پر تباہی آجائے گی ، آجکل اہل یورپ کی تحقیقات سے بھی یہی ثابت ہوا ہے کہ یہ تمام چیزیں ایک دن تباہ ہو جائیں گی ، پہلے یورپین لوگ قیامت کے منکر ہو ا کرتے تھے اور وہ اسلام کے اس عقیدہ کو تسلیم نہیں کرتے تھے کہ کسی دن تمام کارخانہ عالم درہم برہم ہو جائے گا اور سورج ، چاند اور ستارے سب فنا ہو جائیں گے مگر موجودہ تحقیق سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ستاروں، چاند اور سورج کی گردش ایک دن یقیناً ٹوٹ جائے گی اور دنیا پر قیامت آ جائے گی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یہی فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو تمہارے لئے مسخر تو کیا ہے مگر ان تمام کی رفتار میں ایک دن ختم ہونے والی ہیں یہ نہیں کہ یہ کوئی دائمی چیز ہیں۔