سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 900

سیر روحانی — Page 71

یعنی ایک تو یہ ذلت کہ ستارے کا اثر جو زائچہ سے نکلا تھا وہ غلط ثابت ہوا اور دوسری یہ ذلت کہ ہمارے بُت اُسی گھڑی توڑے گئے ہیں جس گھڑی ابراہیم نے بیمار ہونا تھا تو وہ سخت طیش میں آگئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم کو اُسی وقت آگ میں ڈال کر جلا دیا جائے تا کہ ہم لوگوں سے یہ کہہ سکیں کہ زائچہ میں جو یہ لکھا تھا کہ ابراہیم پر ایک آفت آئے گی وہ یہی آفت تھی کہ ابراہیم آگ میں جل کر مر گیا۔مگر جب انہوں نے آگ جلائی اور حضرت ابراہیم کو اس میں ڈالا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ بارش ہوگئی اور آگ بجھ گئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اس میں سے سلامت نکل آئے اور اس طرح جو تد بیر انہوں نے زائچہ کو درست ثابت کرنے کے لئے اختیار کی تھی وہ بھی نا کام گئی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس کے بعد دوسرے یا تیسرے دن انہوں نے دوبارہ آگ میں نہیں ڈالا کیونکہ اگر دوسرے تیسرے دن پھر آگ میں ڈالتے تو ان کی سچائی ثابت نہ ہوسکتی۔ان کے زائچہ کی سچائی اُسی وقت ثابت ہو سکتی تھی جب کہ اُسی گھڑی حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں جل جاتے جس گھڑی آپ پر کسی آفت کا اُترنا زائچہ بتلاتا تھا مگر جب وہ وقت گزر گیا تو چونکہ اس کے بعد اگر آپ کو وہ دوبارہ بھی آگ میں ڈالتے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تکذیب نہیں ہو سکتی تھی اس لئے پھر انہوں نے آپ کو آگ میں نہ ڈالا حالانکہ اگر انہوں نے آپ کو توحید کی وجہ سے ہی آگ میں ڈالا تھا تو چاہئے تھا کہ ایک دفعہ جب وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے تھے تو دوسری دفعہ پھر آپ کو جلانے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے بعد میں ایسی کوئی کوشش نہیں کی جس سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے آپ کو آگ میں اسی لئے ڈالا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کی وہ خبر درست نکلے جو حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے متعلق زائچہ سے نکلی تھی۔اب دیکھو یہ کس طرح ایک مکمل دلیل ستارہ پرستوں کے خلاف بن گئی۔زائچہ دیکھا گیا اور اس سے سب کے سامنے یہ نتیجہ نکلا کہ ابراہیم پر اسی وقت کوئی شدید آفت آنیوالی ہے جو اسے تباہ کر دیگی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا بس اسی پر میری اور تمہاری بحث ختم۔اگر میں تباہ ہو گیا تو تم سچے اور اگر نہ ہوا تو میں سچا۔جب وہ چلے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی تکذیب واضح کرنے کے لئے جُھوں کو توڑنا شروع کر دیا۔اگر یہ معنی نہ کئے جائیں تو اُس دن جوں کو خاص طور پر توڑنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہو سکتا۔آپ نے اُس دن خاص طور پر اسی لئے بت تو ڑے کہ جس وقت آپ بت توڑ رہے تھے وہی وقت زائچہ کے مطابق آپ کی بیماری کا کی