سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 900

سیر روحانی — Page 69

۶۹ 2 ہو پیچھے چل رہے ہو ہمیشہ تم کہتے ہو کہ مریخ نے یہ کر دیا، زحل نے وہ کر دیا۔مشتری نے یہ کیا اور عطارد نے وہ کیا۔تم یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ رب العلمین کیا کر رہا ہے کس قدر ایک وسیع نظام ہے جو ہر چیز میں نظر آتا ہے۔کیا یہ تمام نظام ایک بالا قانون کے بغیر ہی ہے ساری چیزیں اس کے اشاروں پر چل رہی ہیں اور ان ستاروں میں بھی جس قدر طاقتیں ہیں وہ خدا تعالیٰ کی ہی عطا کردہ کی ہیں۔پس عبادت کا اصل مستحق خدا ہے نہ کہ کوئی اور چیز۔یہ تقریر آپ کر ہی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک لطیف نکتہ سمجھا دیا فَنَظَرَ نَظْرَةً فِى النُّجُومِ آپ نے ستاروں میں دیکھا فَقَالَ إِنِّي سَقِیم اور کہا کہ میں بیمار ہوں آپ کا یہ کہنا تھا کہ لوگ چلے گئے اور مجلس منتشر ہو گئی۔یہاں مفسرین کو بڑی مشکل پیش آئی ہے اور وہ حیران ہیں کہ فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّی سَقِیم کے کیا معنی کریں بعض کہتے ہیں کہ اس روز آپ واقع میں بیمار تھے جب بحث زیادہ ہوگئی تو انہوں نے کہا اب مجھے آرام کرنے دو میں بحث کر کے تھک گیا ہوں۔مگر بعض کہتے ہیں کہ آپ اس روز بیمار تھے ہی نہیں۔آپ نے اِنِّی سَقِيمٌ جو کہا تو محض ان سے پیچھا چھڑانے کے لئے کہا ، چونکہ وہ بحث کرتے ہی چلے جاتے تھے اور بس کرنے میں نہیں آتے تھے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بول کر کہدیا کہ میں بیمار ہوں چنانچہ وہ چلے گئے۔بعض کہتے ہیں کہ آپ نے جھوٹ نہیں بولا تھوڑے بہت آپ ضرور بیمار تھے چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ آپ کو اُس دن نزلہ کی شکایت تھی۔آپ نے انہیں کہہ دیا کہ بھائی اب معاف کرومیں بیمار ہوں۔غرض مفسرین اس موقع پر عجیب طرح گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں اور اُن سے کوئی تاویل بن نہیں پڑتی کبھی کوئی بات کہتے ہیں اور کبھی کوئی ، مگر سوال یہ ہے کہ اِنِّی سَقِيمٌ سے پہلے یہ الفاظ ہیں کہ فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ۔انہوں نے ستاروں کو دیکھا۔اب سوال یہ ہے کہ ان کے بیمار ہونے کی خبر کا ستاروں سے کیا تعلق ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے ستاروں کو دیکھ کر یہ معلوم کیا تھا کہ اب بحث کرتے کرتے بہت دیر ہو گئی ہے حالانکہ دیر ہو جانے کا ستاروں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔آپ ہی انسان سمجھ لیتا ہے کہ اب فلاں کام کرتے کرتے مجھے کافی دیر ہو گئی ہے۔ستاروں کی طرف دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہا کرتا کہ اب بہت دیر ہو گئی ہے پھر سوال یہ ہے کہ اگر ستاروں کو دیکھ کر انہوں نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ دیر ہو گئی ہے تو انہیں کہہ دینا چاہئے تھا اب بہت دیر ہو گئی ہے تم چلے جاؤ مگر وہ یہ نہیں کہتے کہ دیر ہو گئی ہے تم چلے جاؤ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوں۔اس پر بعض مفترین لغت کی پناہ ڈھونڈنے لگے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ سقیم کے