سیر روحانی — Page 832
وسطی ستون اور غلام گردش خاص طور پر فنی لحاظ سے قابلِ دید ہیں۔ترکش سلطانہ کا محل اپنی کندہ کاری کے لحاظ سے قابلِ توجہ ہے۔عمارت کے اندر چارفٹ بلند گوٹ بندی کی ہوئی ہے۔اور ان پر جنگل اور باغ کے مناظر نہایت خوبصورتی سے کندہ کئے گئے ہیں۔مہارانی جودھا بائی کے محل (مریم محل ) اس میں مینا کاری کے بڑے خوبصورت نمونے ملتے ہیں۔بیربل کا محل ایک دو منزلہ عمارت جس میں کندہ کاری سے کئی مناظر کی عکاسی کی گئی ہے ان میں جزئیات پر بڑاز وردیا گیا ہے۔جامع مسجد (دہلی) من (دہلی) یہ مسجد دہلی شہر کے وسط میں واقع ہے اس کا شمار دنیا کی عظیم ترین مساجد میں ہوتا ہے۔مغل شہنشاہ شاہجہان نے اسے دس لاکھ روپے کے خرچ سے ۱۴ سال (۱۶۴۴ء۔۱۶۵۸ء) کے عرصہ میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔یہ سنگِ مرمر اور سنگ سُرخ کی بنی ہوئی ہے۔اس کا طول ۲۰۰ فٹ اور عرض ۲۰ فٹ ہے۔مسجد کا صحن بھی بڑا وسیع وعریض ہے اور اس میں بیک وقت کئی ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔صحن میں ایک سنگِ سُرخ اور سنگِ مرمر کا صاف شفاف پانی کا حوض ہے جس کے ایک طرف سنگ مرمر کی خوبصورت کرسی ہے۔اس کے میناروں کی بلندی ۳۰ افٹ ہے۔چھت تک پہنچنے کے لیے ۳۷۹ سیڑھیاں ہیں۔مسجد کے تینوں دروازوں کے سامنے تین بڑی سڑکیں ہیں۔اسے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح دیکھنے کی غرض سے آتے ہیں۔۱۸۵۷ء تا ۱۸۶۲ء یہ مسجد بند رہی۔بالآخر انگریزوں نے اسے۱۸۶۲ء میں مسلمانوں کے حوالے کر دیا۔قلعہ تغلق آباد (دہلی ) کناٹ پیلس سے ۵ کلومیٹر اور قطب مینارسے کلومیٹر اور جماعت احمدیہ کی بیت الذکر اور مشن ہاؤس سے ۳ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع دہلی کی کا تیسرا شہر تغلق آباد دغیاث الدین نے ۱۳۲۱ء اور ۱۳۲۵ء کے درمیان آباد کیا تھا۔اور اسی کے خاندان کے نام سے موسوم کیا گیا۔تغلق آباد کے قلعہ کو ۰ ۱ سے ۱۵ میٹر تک اونچی فصیلوں نے گھیرا ہوا ہے جن میں ۱۳ دروازے ہیں 47 میٹر چوڑی دیوار نہایت عمدگی سے تعمیر شدہ اور بے حد مضبوط اور محفوظ ہے یہ قلعہ پندرہ سال کے اندر اندر ہی پانی کی شدید قلت کی وجہ سے متروک کر دیا گیا۔اُنیسویں صدی کے شروع میں یہاں گجر آبسے۔بادشاہ نے اسے را جا بلب گڑھ کی عملداری میں کو دے دیا۔۱۸۵۷ء میں را جانے پھانسی پائی اور تخلیق آباد انگریزی حکومت کی ملکیت ہو گیا۔