سیر روحانی — Page 830
مزدوروں نے غالباً ۱۶۴۸ء میں ختم کیا، ان کی تعداد بیس ہزار تھی۔موت کے بعد خود شاہجہان کو بھی اسی مقبرے میں دفن کیا گیا۔تاج محل چاردیواری کے اندر ایک باغ میں ہے جو فواروں اور سنگِ مرمر کی روشوں سے مزین ہے۔عمارت کا عکس ایک مستطیل حوض میں پڑتا ہے اور اس کے تین طرف گھنے سرو کھڑے ہیں۔عمارت ۳۱۳ مربع فٹ رقبے کے چبوترے پر قائم ہے جس کے ہر کونے پر ایک مینار ہے۔اس مربع عمارت کے کونے کٹے ہوئے ہیں اور ہر طرف ایک بلند دروازہ ہے۔سفید سنگ مرمر کی دیواروں کی بیرونی سطح میں قیمتی پتھر جڑے ہیں جن سے قرآنی کتے ، بیل بوٹے اور عربی طرز کے نقوش بنائے گئے ہیں اور اندرونی حسن کو عمیق یمانی ، پیشب اور رنگدار سنگِ مرمر کے استعمال سے دوبالا کیا گیا ہے۔گنبدی چھت اندر سے ۸۰ فٹ بلند اور ۵۰ فٹ قطر میں ہے۔باہر سے یہ گنبد پیازی شکل کا ہے جس پر ایک کلس، اور کس کے اوپر ایک ہلال ہے۔حجرہ مدفن جس میں دو تعویز ہیں عمارت کے مرکز میں ہشت پہلو کمرہ ہے۔ملکہ اور بادشاہ فرش کے نیچے تہہ خانے میں مدفون ہیں۔اس مجرے میں ہلکی ہلکی روشنی پڑتی ہے جو سنگِ مرمر کی نہایت نازک دُہری جالیوں سے چھن کر آتی ہے۔تاج محل کا نقشہ بنانے والے مہندسوں کے متعلق مختلف دعوے ہیں۔یورپین لوگ اسے کسی اطالوی انجینیئر کا کارنامہ سمجھتے ہیں۔بعض اور لوگوں کے نزدیک یہ ایک لاہوری مہندس کا کام ہے۔استاد عیسی شیرازی کا نام بھی اس ضمن میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔فتح پور سیکری اتر پردیش (بھارت) کے شہر آگرہ سے ۲۲ میل کے فاصلے پر سیکری“ کے نام کا ایک گاؤں آباد ہے۔یہاں بابر نے ۱۵۲۷ء میں ایک فیصلہ کن معرکے کے بعد رانا سانگا کوشکست دیکر مغلیہ حکومت کی بنیاد مستحکم کی تھی۔اسے اکبر نے سیکری کے تاریخی قصبے کے قریب ایک پہاڑی پر آباد کیا تھا جہاں اُس زمانہ میں سلسلہ چشتیہ کے ایک بزرگ شیخ سلیم فروکش تھے۔۱۵۶۹ء میں ان کی دعا سے اکبر کی راجپوت مہارانی جودھا بائی المعروف مریم الزمانی کے بطن سے جہانگیر ان ہی کی خانقاہ میں پیدا ہوا۔شیخ موصوف کے نام پر اس کا نام سلیم رکھا گیا۔اکبر نے شیخ کی خانقاہ سے متصل ایک عالی شان مسجد بنوائی اور عہد کیا کہ وہ اس جگہ ایک شہر آباد کرے گا۔چنانچہ آئندہ سال اُس نے ضروری احکام صادر کر دیئے۔شہر کا کل رقبہ پونے دو مربع میل اور فصیل کا کل طول پونے چار میل تھا یہ فصیل اب تک موجود ہے ۱۵۷۴ء میں جب اکبر گجرات کے باغیوں کی سازش فرو کر کے واپس لوٹا تو شہر کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی جس کا نام اُس نے