سیر روحانی — Page 803
٨٠٣ لیکن اس ملک کے رہنے والوں نے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا اور انہوں نے کہا رَبَّنَا بَعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنَهُمْ أَحَادِيْكَ وَمَنَّ قُنْهُمْ كُلَّ مُمَزَّق۔۸۵ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے سفروں کو لمبا کر دے اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا پس ہم نے اُن کا نام مٹا دیا اور اُن کو قدیم زمانہ کے افسانے بنا دیا اور انہیں تباہ کر کے ذرہ ذرہ کر دیا۔گویا سبا قوم کی ناشکری کے باعث اُن پر تباہی آگئی اور اُن کا سارا ملک تباہ ہو کر ویران ہو گیا۔قرآن کریم کے اس بیان کی تصدیق اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ایک بہت بڑے لشکر کو لے کر یمن آئے اور وہ بآسانی وہاں پہنچ گئے اور اُن کو کوئی تکلیف نہ ہوئی۔لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے قبل ابرہہ نے یمن کے لشکر کے ساتھ مکہ پر حملہ کیا تو واپسی پر اس کا لشکر راستہ کھو جانے کی وجہ سے بالکل تبا ہ ہو گیا۔معلوم ہوتا ہے کہ اُسوقت تک وہ سب بستیاں تباہ ہو چکی تھیں۔اِن دونوں واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں قوم سبا کا جو جغرافیہ بیان کیا گیا ہے کہ اُن کے علاقہ سے فلسطین تک بستیاں ہی بستیاں چلی جاتی تھیں وہ بالکل درست ہے۔اس طرح اُس نے سبا کی تباہی کے متعلق جو کچھ ذکر کیا ہے وہ بھی ٹھیک ہے۔غرض قرآن کریم کے اندر جو عظیم الشان کتب خانے موجود ہیں اُن کی مثال دنیا کے کسی کتب خانہ میں نہیں پائی جاتی۔پھر دُنیوی کتب خانے تباہ بھی ہو جاتے ہیں لیکن قرآنی کتب خانہ وہ ہے جسکی دائمی حفاظت کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔پس گجا دُنیوی بادشاہوں کے کتب خانے اور گجا یہ روحانی کتب خانہ جو زمانہ کی ہر دست برد سے کلّی طور پر محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ چلا جائے گا۔اللہ تعالیٰ سے دُعا آب میں دُعا کر دیتا ہوں کہ ہمارے دوست جو یہاں آئے ہیں خیر و عافیت سے واپس جائیں۔اُن کے گھروں میں بھی امن قائم رہے اور یہاں بھی امن رہے اور راستہ میں بھی کوئی تکلیف نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اُن کی آئندہ عمر میں ، اُن کے مالوں اور اولاد میں برکت ڈالے اور اُن کو ترقیات عطا فرمائے اور اسلام کا خادم بنائے اور اُن کے ذریعہ سے ساری دُنیا پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگ جائے۔اللہ تعالیٰ آپ کا اور آپ کے خاندانوں کا قیامت تک حافظ و ناصر ہو اور اسلام آب