سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 789 of 900

سیر روحانی — Page 789

۷۸۹ کہا ہم ذرا انتظام کر لیں۔چنانچہ انہوں نے ایک بڑا کمرہ بنایا اُس میں کھانے پینے کا سامان رکھا اور ایک ریڈیو رکھا اور پھر کہا اب آپ اپنے آدمی کی نعش کو دفن کرنے کے لئے آئیں۔وہ ایمبیسیڈرہنس کر کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے ابھی تک مصریوں پر رُوحوں کا قبضہ ہے۔قرآن کریم میں تربیت کے اصول پھر تربیت کا مضمون ایسا ہے جس پر بڑے بڑے علماء اور فلاسفروں نے بڑی بڑی کتابیں لکھی ہیں کیونکہ تربیت کے بغیر دنیا میں نہ اولا د ترقی کر سکتی ہے اور نہ قوم ترقی کر سکتی ہے۔قرآن کریم نے بھی تربیت کے اصول نہایت عمدگی سے بیان کئے ہیں۔چنانچہ سب سے پہلے اولاد کی تربیت کا سوال آتا ہے اولاد کی تربیت کے متعلق قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے کا واقعہ آتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں دکھایا گیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔اس پر انہوں نے اپنے بیٹے کو حکم نہیں دیا کہ میں نے خواب میں یوں دیکھا ہے اس لئے تم ذبح ہونے کے لئے تیار ہو جاؤ بلکہ آپ نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا اے میرے بیٹے ! میں نے رات کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں تم کو ذبح کر رہا ہوں۔فَانْظُرُ مَا ذَا تَرَى اَب تُو سوچ کر مجھے اپنی رائے دے۔یہ نہیں کہا کہ مجھے خواب آئی ہے تو لیٹ جا۔تا کہ میں تجھے ذبح کروں بلکہ فرمایا کہ تو مجھے اپنی رائے دے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کے اندر خود داری کی رُوح پیدا کرنا قرآنی اصول ہے۔جو لوگ اپنی اولاد کے اندر خودداری کی رُوح پیدا نہیں کرتے وہ اپنی اولاد کو ہی نہیں بلکہ قوم کو بھی ترقی سے روک دیتے ہیں کیونکہ قوم کی آئندہ ترقی اولاد کے اندر خودداری کی رُوح قائم رکھنے پر منحصر ہے۔ڈسپلن (DISCIPLINE) پیدا کرنا اور چیز ہے لیکن خود داری کی رُوح بالکل اور چیز ہے۔خودداری کے نہ ہونے کے یہ معنے ہیں کہ فطرت کو ماردیا گیا ہے۔اور ڈسپلن کے معنی یہ ہیں کہ خودداری کو منظم کیا جائے۔اور اسلام ڈسپلن کے خلاف نہیں وہ یہ چاہتا ہے کہ ڈسپلن قائم کیا جائے مگر وہ اس بات کے خلاف ہے کہ خودداری کی رُوح کو کچل دیا جائے۔اگر خود داری کی رُوح کو کچل دیا جائے تو قوم تباہ ہو جاتی ہے۔چنانچہ اس مضمون پر ( قادیان میں) میں نے ایک لیکچر دیا تھا۔بعض لوگ باتوں کو بڑی عمدگی سے یادرکھتے ہیں۔اگلا جلسہ آیا تو ایک شخص اپنا بیٹا ساتھ لایا اور اُس کے متعلق کہنے لگا کہ آپ نے یہ بات پیش کی ہے۔میں نے کہا۔آپ اس بچے کو آپ کہہ رہے ہیں۔اُس نے کہا آپ نے ہی تو ایسا کرنے کی تلقین کی تھی۔آپ نے کہا تھا کہ بچوں کے ساتھ ادب سے بات