سیر روحانی — Page 788
۷۸۸ بھی صحیح رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔چنانچہ اس کی مثال کے طور پر وہ یہ بیان کرتا ہے کہ فرعون نے ایک دفعہ ہامان سے کہا کہ فَاَوْ قِدْلِی يَهَا مَنُ عَلَى الطَّيِّنِ فَاجْعَلُ لِي صَرْحًا لَّعَلَّى اَطَّلِعُ إِلَى إِلَهِ مُوسَى وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَذِبِينَ ٢٩ یعنی اے ہامان! تو اپنے پتھیروں کو لگا دے تا کہ وہ اینٹیں تیار کریں ، پھر اُن اینٹوں کو پکوا کر اونچا محل تیار کرو شاید میں اُس محل پر کھڑے ہو کر موسی کے خدا کو دیکھ سکوں اور میں تو اُسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔اس آیت میں مصریوں کے ایک قومی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ مرنے کے بعد رُوحیں آسمان پر چلی جاتی ہیں اور پھر اونچی جگہ پر اُترتی ہیں۔اس اثر کے ماتحت فرعون نے خیال کیا کہ خدا تو ہے ہی نہیں۔موسی جو کہتا ہے کہ خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ روحوں سے باتیں کرتا ہے۔میں بھی ایک اونچا محل تیار کر کے اُن روحوں تک جاؤں تا حقیقت کا پتہ لگ سکے۔چنانچہ اُس نے ہامان کو حکم دیا کہ وہ ایک اونچا محل تیار کرائے تا کہ وہ اُس کی چوٹی پر چڑھ کر موسی کے خدا کی حقیقت معلوم کر سکے۔غرض اس آیت میں مصریوں کے ایک قدیم عقیدہ کا ذکر کیا گیا ہے جس کو بڑی مشکل سے اب کہیں آثار قدیمہ والوں نے معلوم کیا ہے۔مصری اپنی ان روایات کی وجہ سے اونچی اونچی عمارتیں بناتے تھے جیسے اہرام مصر ہیں اور جن میں سے ایک ابوالہول شیر کی شکل کا ہے۔آخر ان بلند عمارتوں کے بنانے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔وہ وجہ یہی تھی کہ وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ مُردوں کی رُوحیں آسمان پر چلی جاتی ہیں اور بعد میں اونچی جگہوں پر اُترتی ہیں اور چونکہ نیچی جگہوں میں اُترنے میں دیر لگتی ہے اس لئے وہ لوگ اپنی عمارتوں کو اونچا رکھتے تھے اور اس طرح چاہتے تھے کہ اُن کے اسلاف کی روحیں دُنیا میں اُن کے پاس آتی رہیں۔پھر وہ یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ رُوحیں کھاتی پیتی ہیں۔چنانچہ جب وہ مُردوں کو دفن کرتے تھے تو اُن کی قبروں کے پاس کھانے پینے کا سامان بھی رکھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ جب روحیں زمین پر آتی ہیں تو انہیں یہاں آرام بھی کرنا چاہئے اور سونا بھی چاہئے اور یہ روایت اب تک اُن میں چلی آتی ہے۔چنانچہ پاکستان کا ایک ایمبیسیڈر (AMBASSADOR ) وہاں گیا تھا۔اُس نے ہمارے ایک دوست سے بیان کیا کہ مصر میں ہماری ایمبیسی (EMBASSY ) کا ایک آدمی مر گیا۔ہم نے مصری حکومت کو لکھا کہ ہمیں ایک قبر کی جگہ دیدیں تو مصری حکومت نے