سیر روحانی — Page 688
۶۸۸ وہ اس سے بھی بڑھا دے۔اس آیت میں اُن کیمیا وی تغییرات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو دانے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔زمیندار تو اتنا ہی سمجھتا ہے کہ میں نے دانہ بویا تھا جو اُگ آیا مگر سائنس دان سمجھتا ہے کہ خالی دانہ نہیں اُگا بلکہ دانہ کے اُگانے کے لئے اگر وہ کیمیاوی اجزاء زمین میں موجود ہیں جن سے دانہ اُگتا ہے تب تو وہ اُگے گا ورنہ نہیں۔آخر وجہ کیا ہے کہ کسی زمین میں تیل اُگتا ہے اور کسی میں نہیں اُگتا، کسی میں گنا اُگتا ہے اور کسی میں نہیں اُگتا، کسی میں کپاس اچھی اُگتی ہے اور کسی میں نہیں اُگتی ، کسی میں گندم اچھی اُگتی ہے اور کسی میں نہیں اُگتی ، اس کی وجہ یہی ہے کہ گندم بعض خاص کیمیاوی چیزوں سے بنتی ہے اگر وہ کیمیاوی چیزیں زمین میں موجود ہوں تب تو گندم اُگے گی ورنہ نہیں۔اسی طرح کپاس بعض خاص چیزوں سے بنتی ہے اگر وہ کیمیاوی اجزاء زمین میں موجود ہو نگے تب تو اچھی کپاس نکلے گی ورنہ نہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک دانہ سے سات سو دانہ تک پیدا ہوسکتا۔ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے ایک پروفیسر سے ملاقات پنجاب یو نیورسٹی کا ایک پروفیسر تھا جس کا نام مسٹر پوری تھا وہ ایک دفعہ قادیان آیا۔وہ گورنمنٹ کی طرف سے اسی تحقیقات پر مقرر کیا گیا تھا کہ اپنے ملک کے زمینی اجزاء دیکھ کر معلوم کرے کہ اُن میں کیمیاوی اجزاء کتنے ہیں اور وہ کس حد تک گندم یا دوسری چیزیں پیدا کر سکتے ہیں۔وہ مجھے ملا اور کہنے لگا کہ میر اعلم اسبارہ میں بڑا وسیع ہے اور آپ کو مجھ جیسا کوئی اور آدمی نہیں ملا ہو گا۔مجھے گورنمنٹ نے خاص طور پر اس کام کے لئے مقرر کیا ہے اور میری تحقیقات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اڑھائی سو من تک فی ایکڑ گندم پیدا ہو سکتی ہے اور مجھے اپنی اس تحقیق پر بڑا ناز ہے۔اُس نے لاہور کے پاس ایک بہت بڑی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بنائی تھی وہی جگہ بعد میں ہمیں بھی الاٹ ہوئی تھی اور کچھ عرصہ تک ہماری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی وہیں رہی۔جب اُس نے یہ بات کہی تو میں نے کہا اڑھائی سومن؟ قرآن کریم سے پتہ لگتا ہے کہ سات سو من تک پیداوار ہوسکتی ہے وہ یہ سُن کر بالکل گھبرا گیا اور کہنے لگا قرآن کریم میں یہ لکھا ہے ؟ میں نے کہا ہاں ! قرآن میں ذکر ہے۔کہنے لگا پھر مجھے وہ آیت لکھوا دیں۔چنانچہ میں نے اپنے سیکرٹری کو بلا کر کہا کہ یہ آیت اسے لکھ کر دیدیں۔وہ کہنے لگا مجھے اس کا بالکل علم نہیں تھا یہ تو بالکل نیا علم ہے اور ابھی ہندوستان میں شروع بھی نہیں ہوا میں پہلا آدمی ہوں جس نے اس کی تحقیقات شروع کی ہے اور یورپ کی سٹڈی (STUDY)