سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 687 of 900

سیر روحانی — Page 687

YAZ اور اپنے غیر اللہ مددگاروں کو بھی اپنی مدد کے لئے بُلا لو اگر تم سچے ہو۔مگر وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے اسلئے کہ وہ جو بات بھی کریں گے چونکہ جھوٹ کی تائید میں ہوگی اس لئے کبھی موقع کے مطابق نہیں ہو گی محض اوٹ پٹانگ بات کریں گے مگر قرآن جو بات بھی کرے گا موقع کے مطابق ہوگی۔علم بیان کی نہر اسی طرح قرآن نے علیم بیان کا بھی ذکر کیا ہے فرماتا ہے۔وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ تِبْيَاناً لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَّ بُشْرَى لِلْمُسْلِمِينَ - یعنی ہم نے تجھ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمام ضروری مطالب اور مضامین بیان کر دیئے گئے ہیں۔بیان کے معنے ہوتے ہیں ایک مطلب کو مختلف رنگوں میں بیان کرنا اور قرآن کریم یہی فرماتا ہے کہ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَهُ تَفْصِيلا یعنی ہم نے اس کتاب میں تمام باتوں کو اس طرح کھول کھول کر اور مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے کہ ہر بات دل میں گڑ جاتی ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ جو دلیل چاہئے تھی وہ ٹھیک طور پر بیان کر دی گئی ہے۔علم النفس کی نہر پھر قرآن کریم میں علم النفس کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنُ حِسَابُهُمُ إِلَّا عَلَى رَبِّي لَوْ تَشْعُرُونَ - ۲۴ کہ اگر تم اپنے دلی جذبات کو سمجھو تو تمہیں معلوم ہو کہ ان کا حساب لینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے علم النفس کے معنے ہوتے ہیں دلی جذبات کو سمجھنا اور شعور بھی اسی جذبہ کو کہتے ہیں جو اندر سے پیدا ہوتا ہے۔گویا قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ اگر انسان اپنے دلی جذبات کو سمجھے تو پھر اُسے قرآن کا علم سمجھ میں آتا ہے اور اس طرح بنی نوع انسان کو نصیحت کی ہے کہ اگر تم نے قرآنی باتوں کو سمجھنا ہو تو تمہیں اپنے دل کے جذبات پر غور کرنا چاہئے تمہیں سمجھ آ جائے گی کہ قرآن کریم کی تمام باتیں سچی ہیں۔ورنہ اگر تم اپنے نفس پر غور نہیں کرو گے تو قرآن بھی سمجھ نہیں آئے گا۔پھر قرآن کریم میں علم کیمیا کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے فرماتا ہے مَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَا لَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ وَ نُبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مَا نَةُ حَبَّةٍ، وَاللهُ يُضْعِفُ لِمَنْ يَّشَاءُ ، وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ۲۵ یعنی جو لوگ اپنے مالوں کو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں اُن کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک دانہ ہو جس میں سے سات بالیں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانہ ہو اور خدا چاہے تو علم کیمیا کی نہر