سیر روحانی — Page 685
۶۸۵ کہ شہد میں فائدہ ہے بلکہ فرمایا ہے اِنَّ فِي ذَلِكَ لَا يَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُون ہم نے تو اشارہ کر دیا ہے اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم تحقیقات میں لگو۔اگر تم غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ مختلف رنگ کے شہد مختلف امراض کا علاج ہیں۔چنانچہ جب میں علاج کے سلسلہ میں لنڈن گیا تو ایک بڑے خاندان کی ایک اُستانی تھیں لارڈارون جو ہندوستان کے وائسرائے رہ چکے ہیں اُن کی ماں سے اُس کی ماں کی بڑی دوستی تھی۔کہتی تھی کہ اُس کے کئی خط میرے پاس اب تک پڑے ہیں۔ایک دن وہ شہد لے کر آئی جو خاص بوٹیوں میں سے نکلا ہوا تھا اور کہنے لگی یہ شہد آپ استعمال کریں یہ آپ کے لئے بہت مفید ہے۔میں نے کہا۔مجھے تو شہد موافق نہیں۔کہنے لگی آسٹریلین شہر تو معلوم نہیں کس کس چیز کا ہوتا ہے مگر یہ تو ہمارے ہاں بعض لوگ خاص طور پر اُن بُوٹیوں سے بناتے ہیں جو امراض کے علاج میں خاص طور پر مفید ہیں۔اسی طرح ہمارے پرانے اطباء لکھتے ہیں کہ آم اور پھر خاص قسم کے آموں کا شہد لیا جائے تو وہ دل کی تقویت کا موجب ہوتا ہے اسی طرح بعض اور امراض میں بھی مفید ہوتا ہے۔تو شہد بے شک مفید ہے لیکن قرآن کریم فرماتا ہے کہ شہد کے فوائد کا صرف اُسی کو پتہ لگے گا جو تفکر کر نیوالا ہے۔مطلب یہ ہے کہ مختلف شہر مختلف بیماریوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔یہ علم طب کا کتنا عظیم الشان باب ہے جو قرآن کریم کی ایک چھوٹی سی آیت کے ذریعہ کھول دیا گیا ہے۔علم ہندسہ کی نہر پھر علم ہندسہ کو بھی قرآن کریم نے بیان کیا ہے چنا نچہ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَّالْقَمَرَ نُوراً وَّ قَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ۔یعنی خدا تعالیٰ نے سورج کو ذاتی روشنی والا اور قمر کو نو ر والا بنایا ہے اور اُن کی کئی منازل مقرر کی ہیں۔وہ اپنے اپنے منازل میں چلتے ہیں تا کہ تم کو سالوں اور حساب کا علم ہو۔گویا اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے علم حساب کی طرف بھی توجہ دلائی ہے پھر فرماتا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَان وَ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ يَسْجُدَن۔كل یعنی سورج اور چاند ایک مقررہ قاعدہ اور قانون اور حساب کے ماتحت چل رہے ہیں اور جڑی بوٹیاں اور درخت بھی خدا تعالیٰ کے آگے سرنگوں ہیں۔علیم ادب کی نہر اسی طرح علم ادب کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے۔فرماتا ہے وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمُ يَقُولُونَ إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِي ط