سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 644 of 900

سیر روحانی — Page 644

۶۴۴ اپنے ہاتھوں اور اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں نے بھی اس کی گواہی دے دی اور میں شرمندہ اور ذلیل ہونے سے بچ گیا۔دیکھو یہ ڈائری کتنی مکمل ڈائری ہے اس کے مقابل میں دنیا کی ڈائری کے جو انتظامات ہیں وہ کتنے ناقص ہیں۔قرآن کی ڈائری سُبْحَانَ اللهِ ! ایسی ڈائری پر تو کوئی شبہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔گواہی میں دماغ کو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ یہاں کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ دماغ کو کیوں شامل نہیں کیا گیا حالانکہ بہت سے گناہ تو دماغ سے ہوتے ہیں، ہاتھ پاؤں وغیرہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور پھر بسا اوقات دماغی گناہ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے کرنے کا ہاتھ پاؤں کو موقع نہیں ملتا۔تو اس کے متعلق یہ امر یا د رکھنا چاہئے کہ اسلامی حکومت میں یہ قانون ہے کہ جو چیز دماغ میں آتی ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا وہ بدی نہیں گئی جاتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی بدی کا خیال کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اس کے نامہ اعمال میں وہ ایک نیکی کی صورت میں لکھی جاتی ہے کے پس دماغ کو اس لئے شامل نہیں کیا کہ اگر تو ہاتھ دماغ کے مطابق عمل کر چکے ہیں تو ہاتھ کی بات بیان ہو چکی ، اگر زبان دماغ کے مطابق عمل کر چکی ہے تو زبان کی بات بیان ہو چکی ، اگر دماغ نے یہ کہا تھا کہ بدی کی بات سنو تو کان بیان کر چکے کہ اس نے فلاں بات سنی تھی ، اگر دماغ نے کہا تھا کہ چوری کرو تو پیروں نے بتا دیا کہ وہ فلاں کے گھر میں چوری کے لئے گئے تھے لیکن اگر دماغ میں ایک بات آئی اور ہاتھ پاؤں سے اُس نے عمل نہیں کروایا تو پھر اسلامی اصول کے ماتحت اس کے نام ایک نیکی لکھی جائے گی کہ اس کے دل میں بُرا خیال بھی آیا لیکن پھر بھی اس نے اُس پر عمل نہیں کیا تو چونکہ وہ ایک نیکی لکھی گئی اس لئے اس کو اس کی شرمندگی والی باتوں میں بیان نہیں کیا جائے گا کیونکہ ایک طرف خدا کا اس کو نیکی قرار دینا اور دوسری طرف اس کو باعث فضیحت بنانا یہ خدا کے انصاف کے خلاف ہے۔اگر تو وہ اس کو بدی قرار دیتا تو پھر بیشک اس کو فضیحت کی جگہ پر استعمال کر سکتا تھا لیکن اس نے تو خود فیصلہ کر دیا کہ دماغ کے خیال کو نیکی تصور کیا جائے گا اور جب نیکی تصور ہوگی تو اب اُس کو فضیحت کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا تھا۔پس معلوم ہوا کہ ہماری روحانی ڈائری میں بڑے سے بڑے مجرم کو بھی کچھ پردہ پوشی کا حق دے کر اُس کی عزت کی حفاظت کی جائیگی۔