سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 638 of 900

سیر روحانی — Page 638

۶۳۸ کر رہے تھے۔اب ہم کس طرح یقین لائیں کہ اس نے سچ لکھا ہے۔چاہے ایک ایک لفظ اُس نے سچ لکھا ہو۔عام طور پر ڈائری نولیس کو یہ رعایت ہوتی ہے کہ کہتے ہیں یہ آفیشل ورشن ہے۔آفیشل ورشن غلط نہیں ہو سکتا۔مگر یہ دھینگا مشتی ہے پبلک ہر آفیشل ورشن کو غلط کہتی ہے۔جب تنقید بڑھ جاتی ہے اور حکومت کے خلاف اعتراضات ملک میں زیادہ ہو جاتے ہیں تو پھر حکومت قرآن ہاتھ میں لے کر بھی کوئی بات کرے تو ملک والے کہتے ہیں ہم نہیں مانیں گے یہ غلط اور جھوٹ ہے۔بیچارہ پولیس والا وضو کر کے اور نماز پڑھ کے ڈائری لکھے اور خدا کی قسم کھائے کہ ایک لفظ بھی میں جھوٹ نہیں بولوں گا تو پھر بھی جب لوگ اس ڈائری کو پڑھیں گے تو کہیں گے جھوٹ ہے اور ملک میں اس کے خلاف زبردست پرو پیگنڈا شروع ہو جاتا ہے اور پھر جمہوری حکومتوں میں چونکہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں پولیس بیچاری یہ بھی ڈرتی ہے کہ گل کو یہی آگے آگئے تو ہمارے لئے مصیبت ہو جائے گی۔مگر فرماتا ہے کہ یہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈائری نولیس مقرر ہوتے ہیں ان کے لئے یہ خطرہ نہیں ہوتا۔مجرموں کے انکار پر پولیس کا جھوٹے گواہ تیار کرنا سیدھی بات ہے کہ ڈائری عام طور پر مُجرموں کی لکھی جاتی ہے اور مجرم جو مجرم کرتا ہے وہ لوگوں کو دکھا کر تو کرتا نہیں ، چوری چھپے کرتا ہے اور چوری میں اتفاقاً ہی کوئی شخص دیکھ سکتا ہے، یہ تو نہیں کہ سارا ملک دیکھے گا یا سارا گاؤں دیکھے گا۔اب فرض کرو اتفاقاً کوئی پولیس مین وہاں آ گیا اور اُس نے وہ بات دیکھ لی اور اُس نے رپورٹ کی کہ ایسا واقعہ ہوا ہے تو اب لازماً جب وہ شخص پکڑا جائے گا تو کہے گا بالکل جھوٹ ہے اس کو تو میرے ساتھ فلاں دشمنی تھی اس لئے میرے ساتھ اس نے یہ سلوک کیا ہے میں نے تو یہ کام کیا ہی نہیں۔اب اس کے لئے سوائے اس کے کہ کوئی اور ایسے گواہ پیش کر دیے جائیں یا بنالئے جائیں جن سے یہ واقعہ ثابت ہو اور کوئی صورت ہی نہیں۔چنانچہ دنیا میں یہی ہوتا ہے واقعہ سچا ہوتا ہے اور اس کے لئے گواہ جھوٹے بنائے جاتے ہیں تا کہ اس واقعہ کو ثابت کیا جائے۔اتفاقاً ایسے بھی واقعات ہوتے ہیں جن میں گواہ بھی بچے مل جاتے ہیں اور واقعات بھی سچے مل جاتے ہیں اور ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں کہ واقعہ بھی جھوٹا ہوتا ہے اور گواہ بھی جھوٹے ہوتے ہیں بہر حال دونوں قسم کے کیس ہوتے رہتے ہیں۔کبھی گواہ بھی جھوٹے اور واقعہ بھی جھوٹا، کبھی واقعہ سچا اور گواہ جھوٹے ، کبھی واقعہ بھی سچا اور گواہ بھی ہے مگر الہی سلسلہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ہمارے